تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Baiyat ka silsila kahan se shuru huwa.... بیعت کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟؟؟

0

Baiyat ka silsila kahan se shuru huwa....

  بیعت کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟؟؟

السلام عليكم ورحمتہ الله وبرکاتہ 

اور خیریت سے ہیں حضرت ایک میرا سوال ہے کہ بیعت کا سلسلہ کا کہاں سے شروع ہو  حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی


سائل : بندئہ خدا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

بیعت کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : لَّـقَدْ رَضِىَ اللّـٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَـعَلِمَ مَا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ فَاَنْزَلَ السَّكِـيْنَةَ عَلَيْـهِـمْ وَاَثَابَـهُـمْ فَتْحًا قَرِيْبًا" ترجمہ : بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے وا لی فتح کا انعام دیا۔ (سورہ فتح آیت 18) دوسری جگہ ہے : يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّـٰهِ شَيْئًا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَـرِيْنَهٝ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِىْ مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَـهُنَّ اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ" ترجمہ: اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ ممتحنہ آیت 12) تیسری جگہ ہے : اِنَّ الَّـذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَۖ يَدُ اللّـٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِـمْ ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللّـٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا " ترجمہ : وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے ، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا۔(سورہ فتح آیت 10) ترمذی شریف میں ہے : عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح۔ ترجمہ : حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا،امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔( كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ، رقم الحدیث 3860)۔ 

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند

*10/ ذی القعدہ 1442ھ* 

*21/ جون 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad