السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیر میں کن باتوں کا پایا جانا شرط ہے نیز مرید پر اپنی جان و مال میں پیر کے حقوق اور تعظیم کا شرعی حکم کیا ہے۔ مدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
سائل ۔۔۔۔۔ واجد علی شاہ قادری رضوی، موضع ملک، نجیب آباد، بجنور، یوپی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
پیر کے اندر چار شرطیں پائے جانا لازم ہیں (1) سنی صحیح العقیدہ ہو ( 2) علم دین بقدر کافی رکھتاہو (3) کوئی فسق علانیہ نہ کرتا ہو(4) اس کا سلسلہ حضور صلَّی اللہ تعالی علیہ وسلم تک صحیح اتصال سے ملا ہو ہاں اگر ان چاروں شرطوں میں سے کچھ کمی ہو مثلاً وہ بد مذہب یا جاہل یا فاسق یا منقطع السلسلہ ہے تو مرید ہونا صحیح نہیں اسے دوسری جگہ مرید ہونا چاہیے، مرید پر ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق خدمت کرے،فتاویٰ رضویہ میں ہے :پیر واجبی پیر ہو، چاروں شرائط کا جامع ہو، وہ حضور سید المرسلین صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نائب ہے۔اس کے حقوق حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حقوق کے پر تو ہیں جس سے پورے طور پر عہدہ برا ہونا محال ہے، مگر اتنا فرض و لازم ہے کہ اپنی حد قدرت تک ان کے ادا کرنے میں عمر بھر ساعی رہے۔ پیر کی جو تقصیر رہے گی ﷲ ورسول معاف فرماتے ہیں پیرصادق کہ ان کا نائب ہے یہ بھی معاف کرے گا کہ یہ تو ان کی رحمت کے ساتھ ہے۔ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔ اور فرمایا ہے کہ باپ مٹی کے جسم کا باپ ہے اور پیر روح کا باپ ہے، اورفرمایا ہے کہ کوئی کام اس کے خلاف مرضی کرنا مرید کو جائز نہیں۔ اس کے سامنے ہنسنا منع ہے، اس کی غیبت میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنا منع ہے، اس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگرچہ بے جا حال پر ہوں، اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے، اس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہے، اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے، اس سے اپنا کوئی حال چھپانے کی اجازت نہیں، اپنے جان ومال کو اسی کا سمجھے۔ پیر کو نہ چاہئے کہ بلاضرورت شرعی مریدوں کو مالی تکلیف دے، انہیں جائز نہیں کہ اگر اسے حاجت میں دیکھیں تو اس سے اپنا مال دریغ رکھیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کی ملک اور بندہ بے دام سمجھے، اس کے احکام کو جہاں تک بلا تاویل صریح خلاف حکم خدا نہ ہوں حکم خدا و رسول جانے( جلد 26/ صفحہ 563)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*30/ شوال المکرم 1442ھ*
*12/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_

