السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بیوی کا یہ کہنا کہ " میں تم کو شوہر نہیں مانتا " اور شوہر کا یہ کہنا کہ"میں تم کو بیوی نہیں مانتا" کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی رہنمائی فرمائیں
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا کہ "میں تم کو بیوی نہیں مانتا" یہ لفظ کلمئہ طلاق نہیں تو اس سے بالاجماع طلاق واقع نہیں ہوئی۔یہ دونوں اپنی آپسی رنجش کو ختم کرے اور ازدواجی زندگی گزارے۔ بدائع الصنائع میں ہے : إذا قال والله ما أنت لي بإمرأة لا يقع الطلاق وان نوي بالاتفاق لان اليمين علي النفي نتناول الماضي وهو كاذب في ذالك فلا يقع به شئ (ملتقطا )،ترجمہ : جب کہے خدا کی قسم تو میری بیوی نہیں ہے تو طلاق نہ ہو گی اگر چہ نیت کی ہو یہ بالاتفاق ہے کیونکہ نفی پر قسم ماضی کو شامل ہے جبکہ یہ جھوٹ ہے تو اس سے کچھ نہ واقع ہوگا(ملتقطا)۔(ج 4 کتاب الطلاق فصل فی الکنایۃ فی الطلاق صفحہ 237 )۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ان قال لم ا تزوجک ونوی الطلاق لا یقع الطلاق بالاجماع کذا فی البدائع" ترجمہ : اگرخاوند کہے''میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا'' تو بالاجماع طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ بدائع میں ہے، (ج 1/ الفصل الخامس فی الکنایات، صفحہ 375)،اُسی میں ہے : اتفقوا جمیعا انه لو قال وﷲ ما انت لی بامرأۃ ولست وﷲ بامرأۃ فانه لا یقع شیئ وان نوی کذا فی السراج الوھاج، ملخصاً۔ ترجمہ : اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند کہے''خدا کی قسم تُو میری بیوی نہیں'' یا یوں کہے ''خُدا کی قسم میری بیوی نہیں'' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ملخصاً۔( ج 1/ الفصل الخامس فی الکنایات، صفحہ 375) فتاویٰ رضویہ میں ہے : اور یہ کہ میری بی بی نہیں،یہ لفظ کلمہ طلاق نہیں۔ ( مخلصا جلد 12/ صفحہ 616)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*3/ ذی القعدہ 1442ھ*
*14/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

