تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Maiyat ki taraf se qurbani ki gayi ho to es ke gushat ko kha sakte hain ya nahi......میت کی طرف سے قربانی کی گئی ہو تو اسکے گوشت کو کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟؟؟

0

Maiyat ki taraf se qurbani ki gayi ho to es ke gushat ko kha sakte hain ya nahi......

 


السلام علیکم

میت کی طرف سے قربانی کی گئی تو اسکے گوشت کا کیا حکم ہوگا۔۔۔

سائل : بندئہ خدا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

میت کے نام سے قربانی کرنا جائز و درست ہے اور اس گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست واحباب کو دے اور فقیروں کو بھی دے یہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے ۔ ہاں اگر میت نے وصیت کی ہو تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ پورا گوشت صدقہ کر دے۔سنن ابی داؤد میں ہے : عن حنش قال: رايت عليا يضحي بكبشين، فقلت له: ما هذا؟ فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اوصاني ان اضحي عنه فانا اضحي عنه" حضرت حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں( کتاب الضحایا، باب الاضحیۃ عن المیت، رقم الحدیث2790 ) فتاویٰ رضویہ میں ہے : اس کے بھی یہی حکم ہیں جو اپنی قربانی کے، کہ کھانے، کھلانے، تصدق، سب کا اختیار ہے اور مستحب تین حصے ہیں، ایک اپنا،ایک اقارب، ایک مساکین کا، ہاں مگر میت کی طر ف سے بحکم میت کرے۔ تو وہ سب تصدق کی جائے ۔رد المحتار میں ہے :من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیة نفسه من التصدق والاکل والاجر للمیت و الملک للذابح قال الصدر والمختار انه ان بامر المیت لایاکل منها والا یاکل ''بزازیۃ''۔اگر میت کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب میت کے لئے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی، فرمایا صدر نے اور مختار یہ ہے کہ اگر میت کی وصیت پر قربانی اس کے لئے کی تو خود نہ کھائے ورنہ کھائے۔ بزازیہ۔اور فقیر کا معمول ہے کہ قربانی ہر سال اپنے حضرت والد ماجد خاتم المحققین قدس سرہ، العزیز کی طر ف سے کرتاہے اور اس کا گوشت پوست سب تصدق کر دیتا ہے اور ایک قربانی حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہے اور اس کا گوشت پوست سب نذر حضرات سادات کرام کرتاہے۔( جلد 20 / صفحہ 455)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی ،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

19/ ذی القعدہ 1442ھ

30/ جون 2021ء

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad