السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنے کسی مرحومین کے نام سے قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں علمائے کرام بحوالہ جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی
سائل : محمد ندیم رضا شاہدی رامپور یوپی الہند
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے نام سے قربانی کرنا جائز و درست ہے۔سنن ابی داؤد میں ہے : عن حنش قال: رايت عليا يضحي بكبشين، فقلت له: ما هذا؟ فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اوصاني ان اضحي عنه فانا اضحي عنه" حضرت حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں( کتاب الضحایا، باب الاضحیۃ عن المیت، رقم الحدیث2790 ) بہار شریعت جلد سوم میں ہے : میت کی طرف سے قربانی کی تو اوس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست احباب کو دے فقیروں کو دے یہ ضرور نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیونکہ گوشت اس کی مِلک ہے یہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے۔( حصہ 15/ صفحہ 347)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*19/ ذی القعدہ 1442ھ*
*30/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

