السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اپنی دکان میں سونے کے زیورات راور چاندی کی انگوٹی وغیرہ رکھتا ہے' اور اسے بیچتا ہے
سوال یہ ہے کہ زید اپنی دکان میں چاندی کے مورتی ( بت ) وغیرہ رکھتاہے اسے بیچتا ہے تو کیا زید اپنی دکان میں سونے یا چاندی وغیرہ کی مورتی (بت) رکھ کر بیچ سکتا ہے یا نہیں اور جتنے بت بیچا ہے اس پیسے پر کیا حکم ہے برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جلد از جلد مکمل جواب عنایت فرمائیں
لکھنے یا سوال کرنے میں کسی طرح کی غلطی ہوئی ہوں تو معذرت خواہ ہوں
محمد حسین۔ دارجلنگ ، بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
پوچھی گئی صورت میں سونے یا چاندی کی مورتی (بت) کی تجارت یہ غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے تو اس کی تجارت کرنا گناہ پر مدد کرنا ہےاور یہ جائز نہیں ہے۔ اور اس سے حاصل ہونے والی منفعت حرام ہے،اور اسے اپنے کام میں لگانا یا غریبوں میں خیرات کرنا یہ سب ناجائز وحرام ہے بلکہ کسی غریب کو بغیر ثواب کی نیت سے دیدے یہی شرع کا حکم ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ "(پارہ6 سورہ مائدہ آیت 2) فتاویٰ رضویہ میں ہے : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جمع مالاً حراما ثم تصدق به لم يكن له فيه أجر وكان اصره عليه" ( جلد 9/ قدیم صفحہ 18)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
*29/ شوال المکرم 1442ھ*
*11/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

