السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کرتا ہوں آپ حضرات بخیریت وعافیت ہوں گے
سوال یہ ہے کہ میں یوٹیوب کے ذریعے انگلش پڑھائی کرتا ہوں جسے ایک غیرمسلم پڑھاتا ہے تو کیا یہ درست ہے یا نہیں بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں
بڑی مہربانی ہوگی
ہوں
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
اس سے تعلیم حاصل کرنا اس وقت جائز ہے کہ وہ مسائل اسلامیہ یا مذہب اہل سنت یا شریعت مطہرہ کے خلاف تعلیم نہ دیتا ہو، تو ان سے تعلیم حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، ہاں اگر وہ مسائل اسلامیہ یا مذہب اہل سنت یا شریعت مطہرہ کے خلاف تعلیم دیتا ہو تو جائز نہیں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : غیر دین کی ایسی تعلیم کہ تعلیم ضروری دین کو روکے مطلقاً حرام ہے، فارسی ہو یا انگریزی یا ہندی، نیزان باتوں کی تعلیم جو عقائد اسلام کے خلاف ہیں جیسے وجود آسمان کا انکار یا وجود جن و شیطان کا انکار یا زمین کی گردش سے لیل و نہار یا آسمانوں کا خرق و التیام محال ہونا یا اعادہ معدوم ناممکن ہونا وغیر ذلک عقائد باطلہ کہ فلسفہ قدیمہ جدیدہ میں ہیں ان کا پڑھنا پڑھانا حرام ہے کسی زبان میں ہو نیز ایسی تعلیم جس میں نیچریوں دہریوں کی صحبت رہے ان کا اثر پڑے دین کی گرہ سست ہو یا کھل جائے،اور اگر جملہ مفاسد سے پاک ہو تو علوم آلیہ مثل ریاضی وہندسہ وحساب وجبر و مقابلہ و جغرافیہ و امثال ذلک ضروریات دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں کسی زبان میں ہو اور نفس زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتاہی نہیں۔( جلد 23/ صفحہ 706)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند
*10/ ذی القعدہ 1442ھ*
*21/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

