تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Taziya dari ka asal kiya hai aur uska kiya hukme hai۔۔۔۔۔۔ تعزیہ داری کا اصل کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟؟؟

0

تعزیہ داری کا اصل کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟؟؟

 *‭‮‭‮◆ تعزیہ داری کا اصل کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟؟؟؟◆*



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ تعزیہ داری کا اصل کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟؟ 

مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں



*🔸سائل: بندئہ خدا🔸*

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ والرضوان فرماتے ہیں : تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضہ پر نور شہزادہ گلگوں قبا حسین شہید ظلم وجفا صلوات ﷲ تعالی وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بنا کر بہ نیت تبرک مکان میں رکھنا اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا کہ تصویر مکانات وغیرہا ہر غیر جاندار کی بنانا، رکھنا، سب جائز، اور ایسی چیزیں کہ معظمان دین کی طرف منسوب ہو کر عظمت پیدا کریں ان کی تمثال بہ نیت تبرک پاس رکھنا قطعاًجائز، جیسے صدہا سال سے طبقۃً فطبقۃً ائمہ دین و علمائے معتقدین نعلین شریفین حضور سید الکونین صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ ومنافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرماتے ہیں جسے اشباہ ہو۔ امام علامہ تلمسانی کی فتح المتعال وغیرہ مطالعہ کرے، ہمارا رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ دیکھئے صلی ﷲ تعالی علی الحبیب وآلہٖ وبارک وسلم منہ ۔ مگر جہال بیخرد نے اس اصل جائز کو بالکل نیست و نابود کرکے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعت مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آئیں، اول تو نفس تعزیہ میں روضہ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی، ہر جگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس نقل سے کچھ علاقہ نہ نسبت، پھر کسی میں پریاں، کسی میں براق، کسی میں اور بیہودہ طمطراق، پھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشت، اشاعت غم کے لئے ان کا گشت،اور ان کے گرد سینہ زنی، اور ماتم سازشی کی شورافگنی، کوئی ان تصویروں کو جھک جھک کر سلام کر رہا ہے، کوئی مشغول طواف، کوئی سجدہ میں گرا ہے، کوئی ان مایہ بدعات کو معاذ ﷲ معاذ ﷲ جلوہ گاہ حضرت امام علی جدہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سمجھ کر اس ابرک پنّی سے مرادیں مانگتا منّتیں مانتا ہے، حاجت روا جانتا ہے، پھر باقی تماشے، باجے، تاشے، مردوں عورتوں کا راتوں کو میل، اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طرہ ہیں۔غرض عشرہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہرا ہوا تھا، ان بیہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا پھر وبال ابتداع کا وہ جوش ہوا کہ خیرات کو بھی بطور خیرات نہ رکھا، ریاء وتفاخر علانیہ ہوتا ہے پھر وہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کو دیں بلکہ چھتوں پر بیٹھ کر پھینکیں گے روٹیاں زمین پر گر رہی ہیں رزق الہی کی بے ادبی ہوتی ہے پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیں، مال کی اضاعت ہو رہی ہے، مگر نام تو ہو گیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹا رہے ہیں، اب بہار عشرہ کے پھول کھلے، تاشے باجے بجتے چلے، طرح طرح کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ تصویریں بعینہا حضرات شہداء رضوان ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں، کچھ نوچ اتار باقی توڑتا تاڑ دفن کر دیئے۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم و وبال جدا گانہ رہے۔ﷲ تعالیٰ صدقہ حضرات شہدائے کربلا علیہم الرضوان والثناء کا ہمارے بھائیوں کو نیکیوں کی توفیق بخشے اور بری باتوں سے توبہ عطا فرمائے، آمین! اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعاً بدعت وناجائز وحرام ہے،ہاں اگر اہل اسلام جائز طور پر حضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کی ارواح طیبہ کو ایصال ثواب کی سعادت پر اقتصار کرتے تو کس قدر خوب ومحبوب تھا اور اگر نظر شوق ومحبت میں نقل روضہ انور کی حاجت تھی تو اسی قدر جائز پر قناعت کرتے کہ صحیح نقل بغرض تبرک و زیارت اپنے مکانوں میں رکھتے اور اشاعت غم وتصنع الم ونوحہ زنی وماتم کنی ودیگر امورشنیعہ وبدعات قطعیہ سے بچتے اس قدر میں بھی کوئی حرج نہ تھا مگر اب اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یا اہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعات کا اندیشہ ہے، اور حدیث میں آیا ہے : اتقوا مواضع التھم" تہمت کے مواقع سے بچو۔اور وارد ہوا : من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التھم"۔جو شخص ﷲ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز تہمت کے مواقع میں نہ ٹھہرے۔

لہٰذا روضہ اقدس حضور سید الشہداء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے بلکہ صرت کاغذ کے صحیح نقشے پر قناعت کرے اور اسے بقصد تبرک بے آمیزش منہیات اپنے پاس رکھے جس طرح حرمین محترمین سے کعبہ معظمہ اور روضہ عالیہ کے نقشے آتے ہیں یا دلائل الخیرات شریف میں قبور پر نور کے نقشے لکھے ہیں۔والسلام علی من اتبع الھدی۔( جلد 24/ صفحہ 513/513)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند

*10/ محرم الحرام 1443ھ* 

*20/ اگست2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad