تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

برہنہ نہانا جائز ہے یا نہیں؟ برہنہ نہانے کی عادت بنا لینا چاہئے یا نہیں؟

0


برہنہ نہانا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 527

السلامُ علیکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کی اگر کوئی شخص عمر بھر برہنہ نہائے برہنہ نہانے کی عادت بنا لے تو ایسا کرنا کیسا ہے

 سائل: محمد ارشد عطاری جھارکھنڈ

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : غسل کی سنت یہ ہے کہ ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضا کا سِتْر تو ضروری ہے، اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کرے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے۔

صورت مسئولہ میں برہنہ ہو کر نہانے سے غسل ہو جائے گا مگر غسل کرنے میں یہ ضروری ہے کہ ستر نہ کھولے کہ لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے جس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوگا بہتر یہ ہے کہ برہنہ نہانے کی عادت نہ ڈالیں۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : و أن يغتسل في موضع لا يراه أحد. ( ج / 1 کتاب الطھارۃ، الفصل الثانی فی سنن الغسل، صفحہ 14) سنن ابی داؤد میں ہے : عن يعلى : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يغتسل بالبراز بلا إزار، فصعد المنبر، فحمد الله واث نى عليه، ثم قال صلى الله عليه وسلم:" إن الله عز وجل حيي ستير يحب الحياء والستر، فإذا اغتسل احدكم، فليستتر".حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔( کتاب الحمام، باب النہی عن التعری)مرقاۃ المفاتیح میں ہے : وحاصل حکم من اغتسل عاریًا أنه إن کان بمحلٍ خالٍ لا یراہ أحد ممن یحرم علیه نظر عورته حل له ذلک؛ لکن الأفضل التستّر حیاء من اللہ تعالی (ج2/کتاب الطھارۃ ، صفحہ 431)

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

بہار شریعت جلد اول میں ہے : اگر غُسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ مَوضَعِ اِحْتِیاط ہو تو کوئی حَرَج نہیں۔ہاں عورتوں کو بہت زِیادہ اِحْتِیاط کی ضرورت ہے اور عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے۔ بعد نہانے کے فوراً کپڑے پہن لے اور وُضو کے سنن و مستحبات، غُسل کے لیے سنن و مستحبات ہیں مگر سِتْر کھلا ہو تو قِبلہ کو مونھ کرنا نہ چاہیے اور تہبند باندھے ہو توحَرَج نہیں۔ ( حصہ دوم/ غسل کا بیان،صفحہ 332 )۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

28/ ذی الحجہ 1444ھ

17/ جولائی 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_



Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad