رقم الفتوی : 529
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت علماء کرام ومفیان عظام رہنمائی فرمائیں کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ترکہ بہتر لاکھ روپے ہے 72 لاکھ ان کے دو لڑکے، دو لڑکیاں اور ان کی بیوی ہیں سبھی کو کتنے کتنے حصے ملے گا
جواب عنایت فرمائیں
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مرحوم کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو مرحوم کی پوری جائداد کو اڑتالیس (48) حصے کئے جائیں گے بیوی کو چھ ( 6) حصے، دو بیٹے کو اٹھائیس (28) حصے، یعنی ہر ایک بیٹا کو چودہ چودہ کر کے حصے ملے گا دو بیٹیاں کو چودہ (14) حصے،یعنی ہر ایک بیٹی کو سات سات کر کے حصے ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4 سورہ نساء آیت11)دوسری جگہ ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ تُوْصُوْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر،(پارہ4 سورہ نساء آیت12)۔سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن.(سراجی ص 21)۔
لہذا 72 لاکھ کا ترکہ میں ایک بیوی کو 900,000 /ملے گا۔اور دو بیٹے کو 4,200,000/ملے گا یعنی ہر ایک بیٹا کو 2,100,000/ اتنے اتنے کر کے ملے گا اور دو بیٹیاں کو 2,100,000/ ملے گا یعنی ہر ایک بیٹی کو 1,050,000/ اتنے اتنے کر کے ملے گا۔۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
18/ ذی الحجہ 1444ھ
7/ جولائی 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

