رقم الفتوی : 530
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس کے بارے میں کہ زید ایک کمپنی میں ملازمت کرتاہے اس کا کام کپڑے میں ڈیزائن بنانا ھے کبھی کبھی اس میں جانوروں کی تصویریں بھی بنانی پڑتی ہے اگر نہیں بنائے گا تو اسے کمپنی مالک نوکری سے نکال دے گا ایسی حالت میں زید اس کمپنی میں نوکری کر سکتا ھے کہ نہیں شریعت کی روشنی میں جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں
سائل : محمد جابر برکاتی گجرات
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ :صورت مسئولہ میں جاندار کی تصویر بنانا بالاتفاق حرام ہے اور ایسی نوکری کرنا جائز نہیں۔ایسے شخص پر ضروری ہے کہ وہ دوسری جگہ نوکری کرے۔بخاری شریف میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیشک نہایت سخت عذاب روز قیامت تصویر بنانے والوں پر ہے۔ ( جلد 2/ کتاب اللباس، باب التصاویر، صفحہ 880 )
فتاویٰ رضویہ میں ہے : جاندار کی تصویر بنانا مطلقاً حرام ہے، رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان اشد الناس عذابا یوم القٰیمة المصورون۔سب سے زیادہ سخت عذاب روز قیامت ان پر ہوگا جو جاندار کی تصویر بناتے ہیں۔اور اس کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں : جو تصویر دار کپڑے بنائے بیچے اس کی گواہی مردود ہے۔فی الھندیة عن المحیط عن الاقضیة اذا کان الرجل یبیع الثیاب المصورۃ اوینسجھا لاتقبل شہادته.۔فتاوٰی ہندیہ میں محیط عن الاقضیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص تصویروں والے کپڑے بنائے یابیچے تو اس کی گواہی نامقبول ہے۔(جلد 24/صفحہ 559) اسی میں ہے : لاجرم علماء بتحریم مطلق تصریح فرمودہ اند مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری در مرقات فرمود قال اصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھٰذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث سواء صنعہ فی ثوب اوبساط اودرھم اودینار او غیرذٰلک۔علامہ شامی در ردالمحتار فرماید فعل التصویر غیر جائز مطلقا لانہ مضاھاۃ لخلق ﷲ تعالیٰ۔ ہمدران از بحر الرائق ست صنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق ﷲ تعالیٰ وسواء کان فی ثوب اوبساط او درھم واناء وحائط وغیرھا۔ بلاشبہ اہل علم نے بلا قید مطلق تصویر کے حرام ہونے کی صراحت فرمائی ہے، چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ ﷲ علیہ نے مرقاۃ میں فرمایا ہمارے اصحاب اور دیگر علماء کرام نے فرمایا حیوانات کی تصویر بنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے کیونکہ اس پر شدید وعید آئی ہے جو احادیث میں مذکور ہے خواہ کسی کپڑے پر تصویر بنائی جائے، کسی بچھونے پر بنائی جائے یا درہم ودینار اور سکے پر بنائی جائے یا ان کے علاوہ کسی بھی اور چیز پر تصویر کشی ناجائز، حرام اور شریعت کی خلاف ورزی کا ارتکاب ہے۔ علامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں تصویر بنانا مطلقاً جائز نہیں اس لئے کہ یہ ﷲ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت ہے۔ اسی میں بحر الرائق سے نقل ہے کہ تصویر سازی ہرحال میں حرام ہے کیونکہ اس میں تخلیق الٰہی سے مشابہت ہے، خواہ یہ کام کپڑے پر ہو یا کسی اور چیز پر مثلاً بچھونا، درہم دینار، برتن، دیوار اور کاغذ وغیرہ۔( جلد 24/ صفحہ 564)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
17/ جمادی الثانی 1444ھ
10/ جنوری 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

