تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Qabristan ke hal ko masjid banana jaiz hai ya nahi? قبرستان کے ہال کو مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟

0

 

Qabristan ke hal ko masjid banana jaiz hai ya nahi?

رقم الفتوی 531


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ قبرستان کی زمین پر ایک ہال پہلے سے ہی بنا ہوا ہے اب اس ہال کو مسجد بنانا چاہتے ہیں کیا اس کو مسجد بنا کر اس میں نماز ادا کر سکتے ہیں  اور وہ ہال گورنمنٹ کے پیسے سے بنا ہوا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے 


العارض عبدالکریم رضوی ان دور

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : مذکورہ زمین جسے گورنمنٹ نے مسلمانوں کو قبرستان کے لئے دیا ہے مسلمانوں نے اس پر قبضہ کر کے اگر وہ زمین مع ہال قبرستان قرار دیا ہے تو وہ زمین مع ہال قبرستان کے لئے وقف ہوگئی۔اب اس ہال کو مسجد بنانا جائز نہیں کہ یہ تغیر وقف ہے جو حرام و گناہ ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته ۔ ترجمہ : وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے ۔(ج 2/ الباب الرابع عشر فی المتفرقات،صفحہ 490)۔رد المحتار میں ہے : الواجب ابقاء الوقف على ماكان عليه ۔ وقف کو باقی رکھنا واجب ہے جس پر وہ پہلے تھا۔ ( ج6/ کتاب الوقف، مطلب لایستبد العامر الا فی اربع صفحہ 589)۔

ہاں اگر قبضہ کے بعد ہال کو قبرستان قرار نہیں دیا بلکہ یوں ہی چھوڑ رکھا ہے کہ وقت ضرورت کسی مناسب مصرف میں استعمال کریں گے تو اس کو مسجد بنانا جائز ہے جب کہ کوئی قانونی حرج نہ ہو۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

19/ صفر المظفر 1445ھ

6/ ستمبر 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad