تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

لڑکا،لڑکی قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لے تو یہ قسم واقع ہوگی یا نہیں؟

0
لڑکا،لڑکی قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لے تو یہ قسم واقع ہوگی یا نہیں؟

رقم الفتوی : 544



السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔۔

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے

 ۔آج کل عشق مجازی بہت زیادہ عام ہے ۔تو اس میں کبھی کبھار لڑکا اور لڑکی قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لیتے ہیں یا ایسے ہی قسم کھالیتے ہیں اللہ کی کہ ہم کبھی ایک دوسرے کو دوکھا نہیں دیںنگے ۔اب کسی کا ابو نہیں مانتا بعد میں تو کسی کی ماں ۔

اور جب لڑکے اور لڑکی سے بات کرو وہ کہتے ہیں ہم نے قرآن اٹھا کر قسم لی ہوئی ہے ۔ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔

تو ایسی قسم کا کیا مطلب ۔کیا پورا کرنا لازم ہے ۔توڑنا لازم ہے۔یا کیا کریں ایسی صورت میں۔۔


سائل : محمد کاشف ۔جموں کشمیر

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : قرآن مجید کی قسم کھائی گی تو یہ قسم واقع ہو جائیں گی۔جس نے قسم کھائی اور دوسری چیز اوس سے بہتر پائے تو وہ کام کرے ( یعنی قسم کو توڑ دے )اور اس کے بدلے قسم کا کفارہ دیدے۔ردالمحتار میں ہے :أما فی زماننا فیمین وبہ نأخذ و نأمر و نعتقد وقال محمد بن مقاتل الرازی أنہ یمین و بہ اخذ جمہور مشایخنا وعندی لو حلف بالمصحف أو وضع یدہ علیہ وقال و حق ہذا فہو یمین۔ (ج 5/ کتاب الایمان،صفحہ 485)بہار شریعت جلد دوم میں ہے :اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں یا ان کی صفات میں سے جن کے ساتھ قسم کھائے گا وہ قسم ہو جائے گی مثلاً اللہ تعالی کی قسم، خدا کی عزت و جلال کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اللہ کی قسم(حصہ 9/ صفحہ 301)۔صحیح مسلم میں ہے : فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حلف على يمين، فراى غيرها خيرا منها، فلياتها وليكفر عن يمينه ". یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’جو شخص قسم کھائے اور دوسری چیز اوس سے بہتر پائے تو قسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کرے۔‘‘(کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمیناً۔۔إلخ، صفحہ 897)۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکین کو کھانا کھلائے جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑا دیں یا ایک غلام آزاد کرے اور جو ان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّـٰهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّـمُ الْاَيْمَانَ ۖ فَكَـفَّارَتُهٝٓ اِطْعَامُ عَشَـرَةِ مَسَاكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُـهُـمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَـبَةٍ ۖ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ ۚ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُـمْ ۚ وَاحْفَظُوٓا اَيْمَانَكُمْ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ'' ترجمہ : اللہ (عزوجل) تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا ہاں اون قسموں پر گرفت فرماتاہے جنھیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ(عزوجل) اپنی نشانیاں تمہارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔(پارہ 7سورہ مائدہ آیت89)

۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

27/ محرم الحرام 1445ھ

15/ اگست 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad