رقم الفتوی : 543
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کے بارے کہ اگر باپ کا انتقال ہوجاۓ اور بیوی حیات ہے اور دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے تو بیوی کاحصّہ کتنا ہے اوردونوں بیٹے کا حصّہ کتنا رہےگا اور ایک بیٹی کا حصّہ کتنا رہے گا ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل : محمد ارشاد علم رضوی بریلی شریف یورپی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مرحوم کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو مرحوم کی پوری جائداد کو بہتر (40) حصے کئے جائیں گے ایک بیوی کو پانچ (5) حصے ،دو بیٹے کو اٹھائیس (28) حصے، یعنی ہر ایک بیٹا کو چودہ چودہ کر کے حصے ملیں گے۔ایک بیٹی کو سات (7) حصے ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4 سورہ نساء آیت11)دوسری جگہ ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ تُوْصُوْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر،(پارہ4 سورہ نساء آیت12)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
9/ محرم الحرام 1445ھ
28/ جولائی 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

