رقم الفتوی : 542
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : جہاں سے جبڑہ ہلتا ہے اس کے اوپر جو بال ہے وہ داڑھی ہے مردوں کے گردن کے نیچے اُبڑی ہوئی ہڈی ہوتی ہے جو بالغ ہونے کے بعد نکلتی ہے اس کے اوپر تک داڑھی ہے اگر اس کے نیچے بال آگیا ہے تو اس کو کاٹ سکتے ہیں وہ داڑھی نہیں ہے اور داڑھی کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے،اگر ایک مشت کی حد سے زیادہ داڑھی ہو تو اس کو کاٹ سکتے ہیں۔ اور ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و حرام ہے۔ نیز ہونٹ کے نیچے تھوڑی کے اوپر جو بال ہے جنہیں عرف میں ’’داڑھی بچہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ بال بھی داڑھی کے حکم میں داخل ہیں، لہٰذا اس کا رکھنا واجب اور کاٹنا یا ترشوانا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے۔حدیث میں ہے: انهكوا الشوارب واعفوا اللحي ۔ ترجمہ: موچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔( باب الترجل صفحہ 380)در مختار میں ہے: يحرم على الرجل قطع لحيته۔ ترجمہ: مرد پر حرام ہے اپنی داڑھی کا منڈانا۔ (ج9/کتاب الحظر والإباحۃ،فصل فی البیع صفحہ 664)۔
اور ہونٹوں کے نیچے بُچی کے بال مونڈنا یا منڈوانا بدعت،ناجائز و گناہ ہے،کیونکہ یہ بال داڑھی میں شامل ہیں اور داڑھی مونڈنا یا منڈوانا، ناجائز وگناہ ہے،لہذا بُچی کے بال مونڈنا یا منڈوانا بھی ناجائز و گناہ ہے، البتہ اگر یہ بال اتنے بڑھ جائیں کہ کھانے،پینے اور کلی وغیرہ کرنے میں رکاوٹ بنے، تو انہیں بقدرِ ضرورت کتروا دینے میں کوئی حرج نہیں۔داڑھی اور بُچی کے بال مونڈنے والا شخص فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی وگناہ ہے اور اگر پڑھ لی،تو اعادہ واجب ہے،لہذا داڑھی اور بُچی مونڈنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی و واجب الاعادہ ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے : نتف الفنبکین بدعة وھما جانبا العنفقة و ھی شعر الشفة السفلی‘‘ یعنی: ہونٹوں سے نیچے والے بالوں کو اکھیڑنا بدعت ہے اور وہ داڑھی کی بُچی کی طرفین اور نیچے کے ہونٹ کے بال ہیں۔(ج 5/کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع عشر في الختان، صفحہ 358)۔فتاوی رضویہ میں ہے :’’ یہ بال بداہۃ سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے ،تو انہیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں،وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں،جنہیں عربی میں عنفقہ اور ہندی میں بُچی کہتے ہیں، داخلِ ریش ہیں۔۔۔تو بیچ میں دونوں طرف کے بال جنہیں عربی میں فنیکین، ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں، کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں، داڑھی کے باب میں حکم ِاحکم حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ’’ اعفوا ا للحی و اوفروا اللحی‘‘(داڑھیاں بڑھاؤ اور زیادہ کرو) ہے، تو اس کے کسی جزء کا مونڈنا، جائز نہیں، لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے، امیر المؤمنین عمر ابن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی.....ان العنفقة و طرفیھا جمیعا من اجزاء اللحیة وھی واجبة الاعفاء فلاینبغی الاقدام علی ذلک مالم یثبت من حدیث صحیح او نص من امام المذھب صریح‘‘ ترجمہ : بیشک عنفقہ اور اس کی دونوں طرف کے بال داڑھی میں شامل ہیں اور ان کا چھوڑنا واجب ہے، لہذا اس پر جرأت ِاقدام کسی طرح جائز نہیں، جب تک کسی حدیث صحیح سے یا امام مذہب کی طرف سے کسی صریح نص کے ساتھ ثابت نہ ہو، پس اس میں گہری سوچ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔‘‘( جلد 22/ صفحہ 598/597)۔فتاوی یورپ میں ہے: ’’داڑھی بُچہ جس کو عربی میں عنفقہ کہا جاتا ہے، وہ داڑھی ہی کا ایک اہم حصہ ہے، اس کا حلق و قصر ویسا ہی حرام ہے جیسا داڑھی کا اور اس کے اردگرد لبِ زیریں کے کھردرے بالوں کو اکھیڑنا یا مونڈنا بھی بدعتِ مکروہہ (حرام) ہے۔(کتاب الحظر و الاباحۃ، صفحہ535،)
البتہ بُچی کے بال حد سے زیادہ بڑھ جانے پر کتروانے کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں : ’’ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہوں کہ کھانا کھانے، پانی پینے، کلی کرنے میں مزاحمت کریں، تو ان کا قینچی سے بقدرِ حاجت کم کر دینا روا ہے۔ خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے : ’’یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضة أو الاکل أو الشرب"( ترجمہ : زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں، جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔) یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے ،نہ کہ مونڈنا۔‘‘(جلد22/صفحہ 599)۔
جو نماز کراہت کے ساتھ ادا کی جائے،اس کے اعادہ کے واجب ہونے کے بارے میں در مختار مع رد المحتار میں ہے : ’’کل صلاۃ ادیت مع کراھة التحریم تجب اعادتھا‘‘ترجمہ : ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی،اس کو لوٹانا واجب ہے۔(ج2/کتاب الصلاۃ، صفحہ 182)فتاویٰ رضویہ میں ہے : فإن تقديم الفاسق إثم والصلاة خلفه مكروهة تحريما۔ترجمہ: بے شک فاسق کو آگے بڑھانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے(جلد سوم صفحہ 252)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ جمادی الاخری 1445ھ
20/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


