تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

پرانی قبرستان پر بلڈوزر چلانا جائز ہے یا نہیں؟؟

0
پرانی قبرستان پر بلڈوزر چلانا جائز ہے یا نہیں؟؟

رقم الفتوی : 541


السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں ایک قبرستان بہت پرانی ہے اس قبرستان کے ادھے حصے میں تقریبا 100 ڈیڑھ سو سال پرانی قبریں ہیں جس کے متعلق گاؤں والے کوکسی کو بھی نہیں معلوم ہے اور قبر کی کوئ نشان بھی موجود نہیں ہے پہاڑی علاقہ ہے پتھر ہے اور کاٹے پیر پودے بہت نکل چکے ہیں اسی لیے اب گاؤں والے چاہتے ہیں کہ اس کو گولڈوزر سے پورا صاف کرا کے برابر کرنا چاہتا ہےتو کیا قبروں کے اوپر گولڈوزر چلانا درست ہے اور اگر کوئی قبروں پر گولڈوزر چلا دے تو ان کے لیۓ شریعت کا کیا حکم ہے

 قران و حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائے

سائل : محمد عمران احمد مقام کملاپور ضلع گلبرگہ شریف کرناٹک

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں پرانی قبرستان پر بلڈوزر چلا کر برابر کرنا اور قبروں کو مٹانا ناجائز و حرام ہے اس سے مردوں کو تکلیف پہونچتی ہے اور اس میں اموات مسلمین کی توہین و بے حرمتی ہے اور مردوں کو تکلیف دینا اور ان کی توہین و بے حرمتی کرنا ناجائز و حرام ہے۔سنن ابن ماجہ میں ہے : عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لان امشي على جمرة أو سيف أو اخصف نعلي برجلي احب الي من ان أمشي على قبر مسلم. ترجمہ: نبی کریم صلی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے آگ کے انگارے پر یا تلوار پر یا اپنے جوتے کو اپنے پاؤں کے ذریعے سی لوں اس پر چلنا زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں( ج2 ماجاء فی النہی عن المشی علی القبر والجلوس علیہا صفحہ 780)۔ رد المحتار میں ہے : كره وطي القبر و القعود أو النوم أو قضاء الحاجة عليه. ترجمہ : قبر پر وطی اور بیٹھنا اور سونا اور قضائے حاجت کرنا اس پر مکروہ ہے (ج3 مطلب فی اہداء ثواب القرأة للنبي صلى الله عليه وسلم صفحہ 153) فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ويكره ان يبني على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو يقضي حاجة الانسان من بول أو غائط( ج1 الفصل السادس فی القبر و الدفن صفحہ 166)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ کر لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو قطعی حرام اور بوجوہ حرام ہے وقف میں تصرف بدلنا ہے اور وقف بھی نہ ہو تو قبور مسلمین کی توہین و بحیرمتی ہے،قبر پر چلنا پھرنا ،پاوں رکھنا حرام ہے چہ جائیکہ انھیں پامالی کے لئے مقرر کرنا لینا ہے۔(جلد ،9/صفحہ 383)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

15/ محرم الحرام 1445ھ

3/ اگست 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad