رقم الفتوی : 540
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ہندہ کے ساتھ زنا کیا اور پہلے ہی سے ہندہ کی ایک بڑی لڑکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زید ہندہ کے ساتھ زنا کر لیا تو کیا زید ہندہ کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟
سائل = محمّد عمران رضا۔ چھپرا، بہار انڈیا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں زید ہندہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا ہے اس لیے کہ جس عورت سے زنا کیا،اس کی ماں اور بیٹیاں اس پر حرام ہیں۔یوہیں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ،دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے۔ در مختار مع ردالمحتار میں ہے:وحرم أصل مزنيته و ممسوسته بشهوة والمنظور الي فرجها الداخل وفروعهن ، و حرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا و رضاعا. ترجمہ: مزنیہ کی اصل اور اس کا فروع حرام ہے اور جس کو شہوت کے ساتھ مساس کیا ہو اور فرج داخل کی طرف دیکھا ہو شہوت سے تو اس کی اصل و فروع حرام ہے، اور عورت کی اصول و فروع زانی پر حرام ہے خواہ نسبی ہو یا رضاعی ہو۔( ج4 کتاب النکاح فصل فی المحرمات صفحہ 108)فتاویٰ ہندیہ میں ہے: فمن زني بامراة حرمت عليه امها و أن علت وابنتها و أن سفلت و كذا تحرم المزني بها على آباء الزاني و اجداده و أن علوا وابنائه و أن سفلوا كذا في فتح القدير. ( ج 1/ کتاب النکاح، القسم الثانی المحرمات بالصہریۃ، صفحہ 274)۔ہدایہ اولین میں ہے: ومن زني بإمرأة حرمت عليه أمها وبنتها . ترجمہ: اور جس نے کسی عورت سے زنا کیا اس پر اسکی ماں اور اسکی بیٹی حرام ہے۔ (کتاب النکاح صفحہ 309)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
13/ محرم الحرام 1445ھ
1/ اگست 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

