رقم الفتوی : 539
السلام علیکم ورحمہ اللہ برکاتہ
زید کا انتقال ہوگیا زوجئہ زید اور تین بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں ایک مکان ہے زید کی، زوجہ کا کہنا ہے کہ وہ مکان کی زمین زیور بیچ کی خریدی ہوں اب وہ مکان کس کی ملکیت ہوگا زید کا ترکہ یا بیوی کی ملکیت، تو کس طرح تقسیم ہوگی
سائل : نہال احمد سلیم منشی نگر
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں اگر بیوی نے اپنے شوہر کو زیورات بیچ کر دیدی اور شوہر نے اس پر قابض ہوگیا،شوہر نے اسی روپیے سے مکان خریدی تو وہ شوہر کی ملکیت ہے اور اس میں وارثت جاری ہوگی۔
زید کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو مرحوم کی پوری جائداد کو بہتر (72) حصے کئے جائیں گے ایک بیوی کو نو (9) حصے ،تین بیٹے کو بیالیس (42) حصے، یعنی ہر ایک بیٹا کو چودہ چودہ کر کے حصے ملیں گے۔ تین بیٹیاں کو اکیس (21) حصے،یعنی ہر ایک لڑکی کو سات سات کر کے حصے ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4 سورہ نساء آیت11)دوسری جگہ ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ تُوْصُوْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ. ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر،(پارہ4 سورہ نساء آیت12)۔
(ا)
اگر واقعی ہی زوجئہ زید نے اپنی زیورات بیچ کر مکان خریدی ہو تو وہ مکان کا مالک زوجئہ زید ہے اور اسی کی ملکیت ہے جس طرح لڑکی کو زیورات و جہیز وغیرہ دیکر اس کی شادی کردی تو یہ سب لڑکی کی ملکیت ہے شوہر، ماں، باپ کی ملکیت میں شامل نہ ہوگا۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
21/ ذی الحجہ 1444ھ
10/ جولائی 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

