تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

پچاس لاکھ ترکہ میں سے چار بیٹے، چھ بیٹیاں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟؟

0

 

پچاس لاکھ ترکہ میں سے چار بیٹے، چھ بیٹیاں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟؟

رقم الفتوی : 538

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

حضرت علماء کرام ومفیان عظام رہنمائی فرمائیں کہ والد صاحب کی زمین ہے پچاس لاکھ روپے کی ہے 5000000 اور اب وہ بیچ دیۓ ان کے چار لڑکے اور چھ لڑکیاں ہیں سبھی کو کتنے کتنے حصے ملنا چاہیے مدلل مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔


سائل : محمد علاءالدين رضوی ہزاری باغ جھارکھنڈ

6/7/2023

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : مرحوم کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو مرحوم کی پوری جائداد کو چودہ (14) حصے کئے جائیں گے چار بیٹے کو آٹھ (8) حصے، یعنی ہر بیٹا کو دو دو کر کے حصے ملیں گے۔ چھ بیٹیاں کو چھ (6) حصے،یعنی ہر لڑکی کو ایک ایک کر کے حصے ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4 سورہ نساء آیت11)سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن.(سراجی ص 21)۔

لہذا پچاس لاکھ کا ترکہ میں چار بیٹے کو 285,714.286/ ہزار ملے گا یعنی ہر بیٹا کو 71,428.5714/ اتنے اتنے کر کے ملے گا۔اور چھ بیٹیاں کو 214,285.714/ ہزار ملے گا یعنی ہر ایک بیٹی کو 35,714.2857/ اتنے اتنے کر کے ملے گا۔۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

18/ ذی الحجہ 1444ھ

7/ جولائی 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad