تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Qurbani ki khal masjid me de sakte hai ya nahi...... قربانی کی کھال مسجد میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟

0
Qurbani ka khal masjid me de sakte hai ya nahi......

رقم الفتوی : 537


السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل کہ بارے میں

زید کہتا ہے کہ قربانی کی کھال مسجد میں لگا سکتے ہیں اور بکر کہتا ہے کہ قربانی کا کھال مسجد میں نہیں لگا سکتے ہیں

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

مہربانی ہوگی

سایٔل : عبداللہ کٹیہار بہار

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : قربانی کی کھال مسجد وغیرہ کسی بھی نیک کام میں لگا سکتے ہیں بلکہ اس کو باقی رکھتے ہوئے کام میں بھی لا سکتے ہیں۔ مثلاً مصلی، دسترخوان، تھیلی، مشک، وغیرہ بناکر اپنے استعمال میں رکھیں۔ یا اس کو باقی رکھتے ہوئے ایسی چیز سے بدل سکتے ہیں جس سے نفع حاصل کر سکیں۔ مثلاً کتاب،ڈول۔،حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قربانی کی نسبت فرماتے ہیں:کلوا وادخروا وائتجروا " ترجمہ : کھاؤ اور اٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔( سنن ابی داؤد،کتاب الضحایا،باب فی حبس لحوم الاضاحی، رقم الحدیث 2813، ) فتاویٰ رضویہ میں ہے :اگر کھالیں صرف مسجد کے لئے پہلے سے دے دی جائیں یا ان کا داموں کے عوض بیچنا اپنے صرف میں لانے کے لئے نہ ہو بلکہ امور قربت وثواب کی غرض سے ہوں تو ان داموں کا مسجد کے صرف کے لئے دے دینا، یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، اور اگر کھالیں اپنے صرف میں لانے کے لئے داموں کو بیچ ڈالیں تو یہ دام مسجد میں صرف نہیں ہوسکتے بلکہ مساکین کو دے دئے جائیں، جس مسکین کو دے وہ اپنی طرف سے مسجد میں لگادے تو مضائقہ نہیں۔وذٰلک لان الطریق فی الجلود اما الادخار واما الائتجار، فاذا اعطا ہا المسجد، اوباعہا لامور القرب، واعطی الثمن فیه، فقد اتی بما ینبغی، اما اذا باعها للتمول، فقد خالف فما حصل خبیث، وسبیله التصدق، وانما التصدق تملیک للفقیر اما اذا ملک فقیر، فاعطی المسجد فلا حرج، فان الصدقة قد بلغت محلہا"یہ اس لئے کہ قربانی کی کھالوں میں طریق ذخیرہ کرنا یا اجر وثواب حاصل کرنا ہے تو جب مسجد کو دیں یا ان کو فروخت کرکے تقرب والے امور کے لئے یا ان کی قیمت ان امور میں خرچ کرنے کے لیے تو اس نے مناسب محل پورا کردیا لیکن اگر مال حاصل کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو خلاف ورزی کی لہذا جو مال بنایا خبیث ہوا اس کا راستہ یہی ہے۔ کہ اس کو صدقہ کرے جبکہ صدقہ فقیر کو مالک بنانا ہے تو فقیر کو مالک بنایا تو اس نے مسجد کو دے دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ صدقہ اپنے محل پہنچ چکا ہے۔( جلد 20/ صفحہ 472)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

28/ ذی الحجہ 1444ھ

17/جولائی 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad