رقم الفتوی : 546
السلام علیکم ور حمتہ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرما تے ہیں مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں مفتیان شرع اسلام جیسا کہ عوام الناس میں اکثر کسی بیماری یا پریشانی کے وقت اس طرح کہا جاتا ہے یعنی منت مانگی جاتی ہے کہ اگر میرا بیٹا بیماری سے اچھا ہوگیا یا اللّٰہ اس کو شفا دیدے یا فلاں کام یا ایکجام میں کامیابی مل گئی یا کسی بیماری کے آ پریشن سکسیژ ہو گیا یعنی اللّٰہ نے شفا بخشا تو میں یعنی منت مانگنے والا/والی کہتے ہیں/کہتی ہیں کہ اگر میرا بیٹا بیماری سے ٹھیک ہوگیا یا اللّٰہ نے ٹھیک کر دیا تو ہم اللّٰہ کی بارگاہ میں یعنی اللّٰہ کے نام پر یا اللّٰہ کے لئے بکری ،بکرا گاۓ یا اونٹ یا کسی بھی حلال جانور کو قربانی کرینگے اور یہاں منت کی ایک اور صورت ہے وہ یہ کہ گاؤں دیہات میں پالتو حلال جانور جب بچہ جنتا ہے یا جن رہا ہوتا ہے اور ایسے میں اس جانور یا جانور کے کسی بچے کی حالت ٹھیک سی نہیں ہوتی ہے یا کوئی جانور کسی بیماری کی وجہ سے مرنے مرنے کو ہوتا ہے تو ایسے وقت میں اس جانور کا پالنے والا/والی کہتا/کہتی ہیں کہ ہم نے یہ جانور اللّٰہ کو دے دیا یا اللّٰہ کے نام پر چھوڑ دیا بہر حال ان تمام تر مذکورہ بالا صورت حالوں میں اس جانور کی قربانی کا اور اس قربان شدہ جانور کے گوشت کیا حکم شرع ہے اور یہاں سمجھنے کے لئے مزید واضحت یہ ہے کہ خود کسی جانور کی بیماری یا طبیعت کی ناسازگی کی صورت میں اس جانور کے پالنے والے مالک کی طرف اس جانور کے حق میں مانگی گئی منت کی مذکورہ بالا صورت میں اس جانور کا اور اس جانور کے گوشت کا اور کسی انسان کے حق میں بیماری سے شفا پانے کے لئے مانگی گئی منت کے جانور کے گوشت کا کیا حکم ہے مطلب ایسی مذکورہ بالا تمامتر صورت حال میں ایسے منت کے جانور کے گوشت کو کون کون کھا سکتے ہیں اور یہ گوشت کس کس قسم کے لوگوں کو کتنا کتنا تقسیم کیا جا سکتا ہے مطلب ایسے منت کے جانوروں کے گوشت کو بقرعید یا عقیقہ کے جانوروں کے گوشت کی طرح تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور خود منت مانگنے والا اور اس کی فیملی کے دوسرے سارے لوگ کھا سکتے ہیں یا نہیں ۔
اور اس طرح کی منت مانگنا شرعا جائز ہے یا نہیں اور بیمار انسان یا بیمار جانور کی شفا و صحتیابی صورت میں منت میں مانگنے جانے والے جانور کی قربانی کرنا از روۓ شرع اسلام ضروری ہے یا نہیں اور صحت و شفا نا ملنے کی صورت میں منت میں مانگے جانے والے جانور کی منت پوری کرنی ہوگی یا نہیں ۔
زود از زود جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقعہ مرحمت فرمائیں اور عند اللّٰہ ماجور ہوں۔
المستفتی : محمد حسیب الرحمن دیناجپوری اسلام پور اتر دیناجپور بنگال انڈیا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : شرعی منت ماننے کی چند شرطیں ہیں جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔چند شرطیں یہ ہیں(1)ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، عیادتِ مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔(2) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو، لہٰذا وضو و غسل و نظرِ مصحف کی منّت صحیح نہیں۔(3)اس چیز کی منّت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ مثلاً آج کی ظہر یا کسی فرض نماز کی منّت صحیح نہیں کہ یہ چیزیں تو خود ہی واجب ہیں ۔(4)جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہٖ کوئی گناہ کی بات نہ ہو اور اگر کسی اور وجہ سے گناہ ہو تو منّت صحیح ہو جائے گی، مثلاً عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے، اگر اس کی منّت مانی تو منّت ہو جائے گی اگر چہ حکم یہ ہے کہ اُس دن نہ رکھے، بلکہ کسی دوسرے دن رکھے کہ یہ ممانعت عارضی ہے یعنی عید کے دن ہونے کیوجہ سے، خود روزہ ایک جائز چیز ہے۔(5)ایسی چیز کی منت نہ ہو جس کا ہونا محال ہو، مثلاً یہ منت مانی کہ کل گزشتہ میں روزہ رکھوں گا یہ منت صحیح نہیں۔
منّت کی دو صورتیں ہیں : (1) ایک یہ ہے کہ اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا۔ اس کی دو صورتیں ہیں صورت اول ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے۔مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہو جائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے۔صورت دوم اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھر آؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یا کفارہ دے۔ (2) دوم یہ ہے کہ اس نے کہا ہو کہ مجھ پر اللہ (عزوجل) کے لیے یا اللہ کے لئے مجھ پر ہے یا اللہ کے واسطے یا اللہ کے نام پر یا اللہ کی بارگاہ میں اتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ایسی منّت کا پورا کرنا ضروری ہے حج یا عمرہ یا روزہ یا نماز یاخیرات یا اعتکاف جس کی منّت مانی ہو وہ کرے۔
(ا)
صورت مذکورہ بالا میں اگر وہ منت شرعی نہ ہو تو اس منت کو پوری کرنا ضروری نہیں۔اور اس کا گوشت سب کھا سکتے ہیں۔اگر وہ منت شرعی ہے تو اس منت کو پوری کرنا ضروری ہے،ایسی منت کے جانور کے گوشت کو بقرہ عید یا عقیقہ کے جانوروں کے گوشت کی طرح تین حصوں میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔ بلکہ اسکا گوشت فقراء و مساکین پر تقسیم کرنا ضروری ہے! نہ وہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے! بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔بدائع الصنائع میں ہے : ام الذي يجب على الغني والفقير: فالمنذور به ، بأن قال لله علي أن اضحي شاة أو بدنة، أو هذه الشاة أو هذه البدنة، أو قال: جعلت هذه الشاة ضحية أو أضحية، وهو غني أو فقير،لان هذه قربة لله ( تعالى عز شأنه )، من جنسها ايجاب، والوجوب بسبب النذر يستوي فيه الفقير والغني، ترجمہ : وہ قربانی جو امیر وغریب دونوں پر واجب ہے یہ قربانی" نذر" کی ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ کہے اللہ تعالی کیلئے مجھ پر ایک بکری یا اونٹ یا یہ بکری یا یہ اونٹ قربانی کرنا ضروری ہے یا وہ کہے : "میں نے اس بکری کو قربانی کیلئے بنا دیا" تو خواہ وہ امیر ہو یا غریب اس پر قربانی ضروری ہو جائے گی۔اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت( قربانی ) ہے جس کی جنس سے واجب الادا عبادت موجود ہے اور جس شیی کا وجوب نذر کی بنا پر ہو اس میں فقیر اور مالدار سب برابر ہوتے ہیں( ج 6/ کتاب الاضحیۃ، صفحہ 275)۔تبیین الحقائق میں ہے : وان وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنياسواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء(ج 6/ كتاب الاضحية، صفحہ 8)بحر الرائق میں ہے : وانما وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنياسواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء۔ (کتاب الضحیۃ، صفحہ327)درمختار مع ردالمحتار میں ہے وهو مصرف أیضا لصدقة الفطر والکفارة والنذر واغیر ذلک من الصدقات الواجبة (ج 3/کتاب الزکاة، باب المصرف،صفحہ 283)۔اسی میں ہے: وان وجبت بہ (النذر) فلا یأکل منہا شیئا، ولا یطعم غنیا ًسواء کان الناذر غنیا أو فقیرا؛ لأن سبیلہا التصدق، ولیس للمتصدق ذلک۔(ج 9/ کتاب الأضحیة، صفحہ 473) بہار شریعت جلد دوم میں ہے : قربانی اگر منت کی ہے تواسکا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔ (قربانی کے جانور کا بیان حصہ 15 صفحہ 345)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
20/ محرم الحرام 1445ھ
8/ اگست 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

