رقم الفتوی : 547
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کی اگر بھائی اپنے بہنوں کو وراثت کا حصہ شریعت کے مطابق نہ دے بلکہ کچھ پیسہ دے دے اور بہنوں کا کہنا ہے کہ ہم شریعت کے مطابق لینگے تو بہنوں کا حصہ نہ دے کر خود رکھ لے کیا یہ رقم اسکے لیے حرام ہوگی اور کیا بہن اپنے بھائی کے گھر نہ جائے، کہ مجھے بھی حرام کھلائے گا تو بہن کا بھائیوں سے قطع تعلق کر دینا کہ ہم جائینگے تو حرام کھلائے گا تو ایسا کرنا کیسا ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد ارشد عطاری جھارکھن
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں بھائی نے شرع کے مطابق ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اپنے قبضہ میں پورا ترکہ لے لینا ظلم و ناجائز ہے اور بہنوں کو نہ دینا سخت ناجائز و حرام ہے بھائی پر لازم ہے کہ وہ اپنے بہنوں کا حق ترکہ دے اور بہنوں سے معافی بھی مانگے ورنہ وہ سخت عذاب نار کے مستحق ہیں۔ہاں وہ بہنوں کا ترکہ بھائی کے لئے حرام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔( سورہ بقرہ آیت 188)دوسری جگہ ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَهُمْ اٖلَيٰ أَمْوَالِكُمْ " ترجمہ : اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ ( سورہ نساء آیت2) تیسری جگہ ہے : " إِنَّمَا يَأْكُلُوْنَ فِي بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا " ترجمہ : وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے ( بھڑکتی آگ ) میں جائیں گے ( سورہ نساء آیت 10 )چوتھی جگہ ہے : " يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" ترجمہ : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (سورہ نساء آیت 29)۔مسلم شریف میں ہے : " عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم اخو المسلم : لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئي من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه" ۔(كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ )۔
(ا)
بہنوں کا بھائی سے قطع تعلق کرنا جائز نہیں ہے۔ہاں جب وہ حرام کھانے سے باز نہ آئے تو ان کا سخت سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔سنن ترمذی میں ہے : عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " تفتح ابواب الجنة يوم الاثنين والخميس فيغفر فيهما لمن لا يشرك بالله شيئا إلا المهتجرين، يقال: ردوا هذين حتى يصطلحا "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح ويروى في بعض الحديث: " ذروا هذين حتى يصطلحا "، قال: ومعنى قوله المهتجرين: يعني المتصارمين، وهذا مثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال: " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاثة ايام ". حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کر لیں“۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے،بعض روایتوں میں «ردوا هذين حتى يصطلحا» ”ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو جب تک صلح نہ کر لیں“ کے الفاظ مروی ہیں، «مهتجرين» کے معنی «متصارمين» ”قطع تعلق کرنے والے“ ہیں،یہ حدیث اسی روایت کے مثل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے“۔( کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، باب ما جاء فی المتہاجرین)۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ترجمہ: اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(سورہ انعام، آیت 68)۔
(ب)
بہنوں کا یہ گمان کرنا کہ وہ حرام کھلائے گا یہ گمان کرنا جائز نہیں ہے۔ہاں اگر بہنوں کو معلوم ہو کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے تو اسے لینا اور کھانا ہر گز روا نہیں۔ اگر بہنوں کو معلوم ہو کہ جو اس نے دیا خاص اس مال حلال سے تھا اس کے لینے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو اس نے کھلایا اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہو سکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو تو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا اس قدر لینا کھانا تو بلاشبہ جائز ہے۔یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو، ورنہ تو اس صورت میں فتویٰ جواز ہے کہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، لینے اور کھانے سے منع نہ کریں گے، بالجملہ جسے اپنے دین وتقویٰ کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کا پتہ نہ چلے ورنہ فتویٰ تو جواز ہی ہے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : عن الامام الفقیه ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انه یعطیه من حرام، قال محمد رحمه ﷲ تعالى وبه ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینه وھو قول ابی حنیفة رحمه ﷲ تعالى واصحابه" ترجمہ : فقیہ ابواللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتا ہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے۔(ج 5 کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر، صفحہ 342)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
15/ محرم الحرام 1445ھ
3/ اگست 2023
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

