رقم الفتوی : 550
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر لڑکے کا عقیقہ ہو تو کتنے جانور اور اگر لڑکی کا عقیقہ ہو تو کتنے جانور ذبح کرنا ہے برائے کرم جواب عنایت فرمائیں
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا۔اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : کم سے کم ایک تو ہے ہی، اور پسر کے لئے دو افضل ہیں،استطاعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے۔( جلد 20/ صفحہ 586)۔بہار شریعت جلد سوم میں ہے : لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔( حصہ 15/ عقیقہ کا بیان، صفحہ 359)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
11/ صفر المظفر 1445ھ
29/ اگست 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

