رقم الفتوی : 562
کیا فرماتے ہے علماء دین کہ
مسجد کا مائک واسپیکر وغیرہ میلاد النبی کے جلوس میں لے جاسکتے ہے یا نہیں اگر مناسب کرایہ دے کر لے جاسکتے ہے یا نہیں۔
(سائل : رضوان احمد نویڈا یوپی )
...........................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مسجد کا مائک واسپیکر وغیرہ میلاد النبی کے جلوس میں لے جانا ناجائز و گناہ ہے کیونکہ مسجد کی اشیاء موقوفہ چیز کے حکم میں ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز جس غرض کے لئے وقف کی گئی ہے اسے دوسری غرض میں استعمال کرنا ناجائز و گناہ ہے اگر چہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدہ کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجب الاتباع ہے۔ البتہ اگر وقف کرنے والے کی غرض یہ ہو کہ ہر کام میں استعمال کر سکتے ہیں تو لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته ۔ ترجمہ : وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے ۔(ج 2/ الباب الرابع عشر فی المتفرقات،صفحہ 490)۔رد المحتار میں ہے : الواجب ابقاء الوقف على ماكان عليه ۔ وقف کو باقی رکھنا واجب ہے جس پر وہ پہلے تھا۔ ( ج6/ کتاب الوقف، مطلب لایستبد العامر الا فی اربع صفحہ 589)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
10/ ربیع الاول 1445ھ
26/ ستمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Mustaquim
ReplyDelete