تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

سسر نے اپنی بہو سے زنا کیا تو بیٹا پر بہو حرام ہوگی یا نہیں؟ سسر اس بہو سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیا بیٹا کو طلاق دینا ضروری ہے؟

2
سسر نے اپنی بہو سے زنا کیا تو بیٹا پر بہو حرام ہوگی یا نہیں؟

رقم الفتوی : 563


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حضور کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ سسر نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ زنا کیا،تو اب وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے لیے حرام ہو گئی یا حلالہ کر کے دوبارہ اس کا نکاح کیا جا سکتا ہے،یا بیٹے پر حرام ہونے کے بعد اپنے سسر کی نکاح میں جا سکتی ہے،یا اب ہمیشہ کے لیے دونوں کو حرام ہو گئی اس مسئلے میں 

رہنمائی فرمائیں اور جلد ہی نظر کرم فرمائیں فقط و سلام


المستفتی : محمد اشرف رضا خطیب و امام مدینہ مسجد اودے پور راجستھان

.......................................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں جب سسر نے اپنی بہو سے زنا کیا تو وہ بہو اپنے بیٹے پر ہمشیہ ہمشیہ کے لئے حرام ہو گئی اب نہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے اور نہ وہ اپنے سسر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے بیٹا پر لازم ہے کہ وہ طلاق دے دے اور ایک دوسرے سے فورا جدا ہو جائے۔ بیٹا کے طلاق کے بعد بھی وہ ان دونوں سے نکاح نہیں کر سکتی ہے۔وہ ہمشیہ کے لئے دونوں پر حرام ہو گئی۔درمختار میں ہے : و حرم اصل مزنيته و ممسوسته بشهوة والمنظور الى فرجها الداخل وفروعهن۔ترجمہ : مزنیہ کی اصل اور اس کا فروع حرام ہے اور جس کو شہوت کے ساتھ مساس کیا ہو اور فرج داخل کی طرف دیکھا ہو شہوت سے تو اس کی اصل اور فروع حرام ہے (ج 4 فصل فی المحرمات صفحہ 108)رد المحتار میں ہے : حرمة اصولها وفروعها على الزاني نسبا رضاعا۔ترجمہ : عورت کی اصول و فروع زانی پر حرام ہے خواہ نسبی ہو یا رضاعی ہو ۔( ج4 کتاب النکاح صفحہ 108)فتاوی ہندیہ میں ہے : فمن زنى بإمرأة حرمت عليه أمها و ان علت و ابنتها وان سفلت ۔ترجمہ : جس نے عورت کے ساتھ زنا کیا تو اس پر اس کی ماں حرام ہے اگرچہ کتنے اوپر کے درجے ہو اور اس کی بیٹی اگرچہ کتنے نیچے درجے کے ہو (ج1 القسم الثانی المحرمات بالصہریہ صفحہ 274)ہدایہ میں ہے : من زني بإمرأة حرمت عليه أمها و ابنتها۔ ( کتاب النکاح صفحہ 309)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : نکاح زائل نہ ہوا، زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑا اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے، زید یا پسر زید سے کبھی نہیں کر سکتی، زید کی بیٹی کی جگہ ہوگئی اور پسر زید کی ماں کی جگہ تھی ہی، جب تک زید متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزرے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ در مختار میں ہے : بحرمه المصاهرۃ لا یرتفع النکاح حتی لایحل التزوج باخر الا بعد المتارکة و انقضاء العدۃ۔ حرمت مصاہر ہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا تاوقتیکہ بعد متارکہ عدت نہ گزر جائے دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں۔( جلد11/ صفحہ 503)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

15/ ربیع الاخر 1444ھ

31/ اکتوبر 2023ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

  

Post a Comment

2 Comments
  1. Salaam
    Kaise hain aap

    ReplyDelete
  2. DARLU IFTA KA KOI GURUP HO YA USME MUJHE ADD KAREN YA MUFTI SAHAB KA NUMBER ATA FARMA DEN.

    ReplyDelete
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad