تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

کام دلانے کے لئے روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس طرح کا کمیشن لینا جائز ہے؟

0


کام دلانے کے لئے روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی :565


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں زید جو کہ مالک مکان ہے اپنے مستری بکر سے کہا کہ گھر کی رنگائی کے لئے ایک رنگ مستری لے آنا گھر رنگ کرانا ہے اب مستری بکر نے رنگ مستری سے کہا کہ میں تجھے کام دلا دوں گا میں تم سے کمیشن کے طور پر 5000 روپے لوں گا سودا ہو گیا کام مل گیا رنگ مستری نے 5000 روپے دیدیا یہ روپے بکر کیلئے جائز ہے ناجائز ہے یا حرام ہے جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔


سائل : محمد شاہد عالم اشرفی گیوڑالوٹی کشن گنج بہار

........................................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر بکر کام دلانے میں دوڑ بھاگ کرتا ہے یا کسی طرح کا اپنا وقت صرف کرتا ہے تو اس کی اجرت (منافع) لینا جائز ہے اگر وقت صرف نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف زبانی رہنمائی ہوتی ہے یا صرف صلاح و مشورہ دیتا ہے تو اس کی اجرت لینا جائز نہیں۔در مختار مع رد المحتار میں ہے : و أما الدلال فإن باع العين بنفسه باذن ربها فاجرته على البائع و أن سعي بينهما و باع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف.( ج5/ کتاب البیوع، مطلب فساد المتضمن یوجب فساد المتضمن، صفحہ 69) فتاویٰ قاضی خان میں ہے : ان كان الدلال الأول عرض تعني و ذهب في ذلك روزگارہ كان له اجر مثله بقدر عنائه وعمله۔( ج3/ کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، صفحہ 434)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کی، اگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی۔ردالمحتار میں بزازیہ و ولوالجیہ سے ہے : الدلالة والاشارۃ لیست بعمل یستحق به الاجر، وان قال لرجل بعینه ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی له فدله فله اجر المثل للمشی لاجله، لان ذلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ. الخ۔محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے ایک خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتاہے۔ الخ،غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:اما لودله بالکلام فلا شیئ له۔اگر صرف زبانی رہنمائی دے تو اس کے لئے کچھ نہیں۔اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا۔خانیہ میں ہے:ان کان الدلال الاول عرض تعنی وذھب فی ذلک روزگارہ کان له اجر مثله بقدر عنائه وعمله۔اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔اشباہ میں ہے : بعه لی بکذا ولک کذا فباع فله اجر المثل۔اگر دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو اس نے وہ چیز فروخت کردی تو دلال مثلی اجرت کا مستحق ہوگا۔حموی میں ہے : ای ولایتجاوزبه ماسمی وکذا لو قال اشترلی کما فی البزازیة، وعلی قیاس ھذا السماسرۃ والدلالین الواجب اجر المثل کما فی الولوالجیة۔یعنی مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگی، اور یوں ہی اگر کہا تو مجھے خرید دے، جیسا کہ بزازیہ میں ہے اور اس پر قیاس ہوگا دلال حضرات کا معاملہ کہ ان کو مثلی اجرت دی جائے گی جیسا کہ ولولوالجیہ میں ہے۔ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ہے : فی الدلال والسمسار یجب اجر المثل و ماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذلک حرام علیہم۔آڑھتی اور دلال حضرات کے لئے مثلی اجرت ہوگی اور وہ جو دس دنانیر میں اتنا طے کرتے ہیں تو یہ حرام ہے۔ پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر و اجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئی، مثلا دس روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزر گئے تو ایک روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہا، اور اگر بائع سے یہ عقد اجارہ بے اذن واجازت مشتری ہوا، تو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کو بے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیں۔درمختار میں ہے :لیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرته بقدر ما عمل۔ فتاوی النوازل۔اجیر خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنا اس کی اجرت سے کاٹا جائے گا۔( جلد 19/صفحہ 455)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

15/ ربیع الاخر 1444ھ

31/اکتوبر 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad