رقم الفتوی : 566
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
مقتدی رکوع میں شامل ہوا نماز مکمل ہونے پر ایک وہابی نے اعتراض کیا ہے کہ یہ نمازی الحمد میں شامل نہیں ہوا اس کی نماز نہیں ہوئی امام صاحب کہتے ہے کہ نماز ہو جاتی ہے اس کا صحیح جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد حسنین پاکستان
................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر کوئی شخص امام کو رکوع میں پایا اور امام کے تکبیر کہنے سے پہلے مقتدی حد رکوع میں پہنچ گیا تو مقتدی کو پہلی رکعت کا رکوع مل گیا، اور تکبیر اولیٰ کی فضیلت پا گیا۔در مختار مع رد المحتار میں ہے : "و يشترط كونه (قائما) فلو وجد الإمام راكعًا فكبر منحنيًا، إن إلى القيام أقرب صح (قوله: و لغت نية تكبيرة الركوع) أي لو نوى بهذه التكبيرة الركوع و لم ينو تكبيرة الافتتاح لغت نيته و انصرفت إلى تكبيرة الافتتاح."(ج2/کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، صفحہ 180/179)۔حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے : "ومن أدرك إمامه راكعا فكبر و وقف حتى رفع الإمام رأسه" من الركوع أو لم يقف بل انحط بمجرد إحرامه فرفع الإمام رأسه قبل ركوع المؤتم "لم يدرك الركعة" كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما. قوله: "فرفع الإمام رأسه" مراده أنه رفع قبل أن يشاركه المؤتم في جزء من الركوع وإلا فظاهر التعبير بالفاء أن الرفع تحقق بعد الإنحطاط وحينئذ تحقق المشاركة فتكون الصلاة صحيحة قوله: "كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما" ولفظه إذا أدركت الإمام راكعا فركعت قبل أن يرفع رأسه فقد أدركت الركعة وإن رفع قبل أن تركع فقد فاتتك الركعة"(کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، صفحہ 455)۔
لہذا صورت مسئولہ میں امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے اور جب امام نے قراءت کر لی ہے تو مقتدی کی قراءت کا فرض ادا ہو گیا۔ وہابی کا اعتراض کرنا غلط ہے۔شرح معانی الآثار میں ہے : من كان له أمام فقراءة الإمام له قراءة۔ ترجمہ: جس کا امام ہو تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے۔(باب القراءت خلف الامام صفحہ 100)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
21/ جمادی الاولی 1445ھ
5/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

