رقم الفتوی : 568
28-11-2023
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں ایک جن کو ولی مانتے ہیں اور ایک جگہ کو خاص کر کے اس کا مزار مانتے ہیں لوگ وہاں پر جاکر منتیں مانتے ہیں بکرا ذبح کرکے جن کے نام پر نیاز بھی کرتے ہیں جن کے نام پر بکرا ذبح کرکے نیاز کرنا یا اس کے پاس جاکر منتیں مانگنا اس کا مزار ماننا یہ سب صحیح ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد عمران احمد گلبرگہ شریف کرناٹک
........................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں مسلمان مؤمن جنات ولی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کا مزار اور فرضی قبر بنانا جائز نہیں اس لئے کہ جنات مرنے کے بعد مٹی میں غائب ہو جاتے ہیں۔اور شریر جنات سے استعانت حرام ہے اور فعل کفر پر مشتمل ہو تو کفر ہے۔بعض اوقات تو یہ نِرا ڈھونگ ہوتا ہے جو کہ حُبِّ جاہ اور سستی شہرت کے بھوکے مرد و عورت عوام کو اپنی طرف متوجِّہ کرنے اور بھیڑ جمانے کیلئے ایسا کرتے ہیں اور بسا اوقات یہ شریر جنّات ہوتے ہیں جو کہ کسی انسان پر غلبہ پا کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’ یہ(یعنی شریر جِنّات) سخت جھوٹے کذّاب ہوتے ہیں،اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ۔اِس وجہ سے جاہِلانِ بے خِرَد(یعنی بے عَقل جاہِلوں ) میں ’’ شہیدوں کا سر پر آنا ‘‘ مشہور ہو گیا، ورنہ شُہَدائے کرام ( اور اولیائے عظام) ایسی خبیث حرکات سے پاک و صاف ہوتے ہیں۔ (ج 21/ ماخوذ از فتاوٰی رضویہ صفحہ 218)۔منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر میں ہے : لا تجوز الاستعانة بالجن فقد ذم الله الكفرين على ذلك فقال الله تعالي : وَاَنَّهٝ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِـرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُـمْ رَهَقًا۔ و قال الله تعالي : وَيَوْمَ يَحْشُرُهُـمْ جَـمِيْعًاۚ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْـثَرْتُـمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۖ وَقَالَ اَوْلِيَآؤُهُـمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَـآ اَجَلَنَا الَّـذِىٓ اَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اِلَّا مَا شَآءَ اللّـٰهُ ۗ اِنَّ رَبَّكَ حَكِـيْـمٌ عَلِيْـمٌ۔فاستمتاع الانسي بالجني في قضاء حوائجه و امتثال اوامره و اخباره بشي من المغيبان، و نحو ذلك واستمتاع الجن بالانسي تعظيمه اياه واستعانته به، واستعانته به خضوعه له، ملتقطا. ( صفحہ 252)۔
اور جنات کا مزار بنانا یا بنوانا یا وہاں جاکر منتیں مانگنا اور سالانہ عرس مانانا سخت حماقت، شدید جہالت اور ناجائز و گناہ ہے اسی طرح مسلمانوں کا چندہ دینا بھی ناجائز و گناہ ہے اور جن لوگوں نے اس کا مزار بنائے ہیں ان پر لازم ہے کہ فوراً توبہ کریں اور اس مزار کو ڈھا دیں۔فتاویٰ عزیزیہ میں ہے : لعن اللہ من زار بلا مزار۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس پر جو بلا مزار زیارت کرے۔(ج1/بحوالہ کتاب السراج بروایت خطیب، صفحہ 269)۔حضور سرکار اعلیٰ حضرت فقیہ اعظم مدث اعظم علیہ الرحمتہ و الرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرنا ناجائز و وبدعت ہے ۔(جلد 4/صفحہ115 )۔
البتہ جنات میں مسلمان بھی ہیں کافر بھی ہیں، نیک بھی ہیں بد بھی ہیں،جس طرح نیک اعمال کا ثواب مسلمان انسانوں کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے یونہی مسلمان جنات کو بھی ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے،اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
24/ جمادی الاولی 1445ھ
8/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

