رقم الفتوی : 569
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
عریضہ ہے کہ زکوٰۃ کے روپے سے چاول خرید کر ایسے مدرسہ میں دے سکتے ہیں یا نہیں جہاں ہر طرح کےطلباء رہتے ہیں۔
سائل : محمد شاہد رضا مصباحی
.....................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : زکوٰۃ کے روپے سے چاول خرید کر مدرسہ میں دے سکتے ہیں لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ جس طالب علم کو دے مالک بنا کے دے یا مدرسے کے ذمے دار کو یہ کہہ کر دینا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ کا غلہ ہے تاکہ مدرسے کے ذمے دار بحیثیت وکیل حیلئہ شرعی سے زکوۃ کے غلّہ کا کسی غریب طالب علم کو دے کر مالک بنا دے پھر طالب علم وہ غلہ مدرسے میں دے دے۔ پھر مدرسے کے ذمے دار وہ غلہ تمام طلبہ پر صرف کرے۔ تو اس وقت آپ کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ورنہ نہیں۔تنویر الابصار میں ہے :هي تمليك جزء مال عينيه الشارع من مسلم فقير غير هاشمي ولا مولاه مع قطع المنفعة عن الملك من كل وجه لله تعالى(ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ71/172)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے :زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ، جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے ( جلد 10 صفحہ69/70)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
24/ جمادی الاخری 1445ھ
6/ جنوری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

