رقم الفتوی : 570
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کے تراویح میں جلدی پڑھانے کے چکر میں تشہد کے بعد درود ابراہیمی کے بجائے صلی اللّٰہ علی النبی یا اور کوئی دوسرا درود پڑھ کر سلام پھیر دے تو کیا اسکی نماز مکمل ادا ہوگی یا نہیں برائے مہربانی جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع فراہم فرما دیں ۔
العارض : محمد نجم الدین نوری اظھری خطیب و امام نوری جامع مسجد لاھو گچھ کچو باری ہاٹ
.........................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : قراءت اور ارکان کی ادا میں جلدی کرنا مکروہ ہے اور جتنی ترتیل زیادہ ہو بہتر ہے۔ یوہیں تعوذ و تسمیہ و طمانینت و تسبیح کا چھوڑ دینا بھی مکروہ ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں امام ہر دو رکعت پر تشہد کے بعد درود اِبراھیم اور دعائے ماثورہ بھی مکمل پڑھے۔ ہاں اگر مقتدیوں پر گرانی ہو تو تشہد کے بعد صلی اللّٰہ علی النبی یا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ یا اور کوئی دوسرے درود پر اکتفا کرنا جائز ہے۔ در مختار مع رد المحتار میں ہے : (وياتي الأمام والقوم بالثناء في كل شفع، ويزيد) الأمام ( على التشهد،الا ان يمل القوم فياتي بالصلوات) و يكتفي باللهم صل علي محمد.(ج2/ کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراویح، صفحہ 498/499)۔فتاوٰی ہندیہ میں ہے : بخلاف ما بعد التشهد من الدعوات فإنه يتركها إذا علم أنه يثقل علي القوم لكن ينبغي أن يأتي بالصلاة على النبي عليه الصلاة والسلام هكذا في النهاية. (ج1/کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراویح، صفحہ 117)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : امام و مقتدی ہر دو رکعت پر ثنا پڑھیں اور بعد تشہد دُعا بھی، ہاں اگر مقتدیوں پر گرانی ہو تو تشہد کے بعد اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ پر اکتفا کرے۔( حصہ چہارم/ صفحہ 695)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
8/ رمضان المبارک 1445ھ
19/ مارچ 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

