تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

حیض والی عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ حیض والی عورت نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟

0

 

حیض والی عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟


رقم الفتوی : 571


السلام علیکم ورحمۃ اللهِ وبرکاتہ امید کرتا ہو آپ خیریت سے ہونگے 🌹حضرت میرا سوال ہے جیسے عورتوں کی peard بیماری ہوتے ہے تو حضرت ان عورتوں کے روزوں کا کیا حکم حضرت جواب عنایت فرماے عین نوازش ہوگی جزاک اللہ خیرا 😍 🥰

سائل : محمد عبدالرقیب اسماعیلی 🍃بہار

............................................................


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : جب عورت کو روزے کے دنوں میں حیض آئے تو وہ نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے اس لئے کہ حیض کے دنوں کی نمازیں معاف ہیں،ان کی قضا نہیں،البتہ اس دوران رمضان کے جتنے روزے رہ گئے،وہ بعد میں قضا رکھنے ہوں گے۔صحیح مسلم میں ہے : عن عاصم،عن معاذة، قالت: " سالت عائشة ، فقلت: ما بال الحائض، تقضي الصوم، ولا تقضي الصلاة؟ فقالت: احرورية انت؟ قلت: لست بحرورية، ولكني اسال، قالت: كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم، ولا نؤمر بقضاء الصلاة " ترجمہ : حضرت عاصم نے حضرت معاذہ سے روایت کی،انہوں نے کہا: میں نے عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے سوال کیا، میں نے کہا: حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ میں نے عرض کی: میں حروریہ نہیں، (صرف) پوچھنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔( کتاب الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلاۃ،صفحہ 153)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : ان دِنوں میں نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں اور روزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے۔( حصہ دوم/ صفحہ 383)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

10/ رمضان المبارک 1445ھ

21/ مارچ 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad