رقم الفتوی : 601
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے
مولا آپکو ہمیشہ خوش رکھے شاد و آباد رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین
سوال عرض یہ ہے کہ
اگر نفل چھوٹ جائے تو کیا نفلوں کی قضاء ہے
انکو پڑھنا ہوگا یا نہیں
نفلوں کی قضاء پڑھیں یا پھر قضائے عمری
اسکے بارے میں کیا حکم ہے
رہنمائی فرمائیں
کن حالات میں نفل کو چھوڑا جا سکتا ہے۔۔
سنت و نفل چھوڑ کر قضاء عمری
پڑھنا کیسا ہے
مثلا عشاء کی نماز کے وقت جو سنت و نفل پڑھتے ہیں اُن کو چھوڑ دیا اور قضائے عمری پڑھنے لگے تو اُسکے بارے میں کیا حکم ہے کیا ایسا کرنا درست ہے ۔۔
جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں
السائل :محمد شاہرخ رضا سوار رامپور یوپی
.........................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : قضا ہر روز کی نماز کی صرف بیس رکعتوں کی ہوتی ہے فجر میں دو فرض، ظہر میں چار فرض، عصر میں چار فرض، مغرب میں تین فرض، عشاء میں چار فرض اور تین واجب الوتر۔اور باقی نوافل وسنن اگرچہ موکدہ ہوں مستحق قضا نہیں کہ شرعاً لازم ہی نہ تھی جو بعد فوت ذمہ پر باقی رہیں۔در مختار میں ہے : و قضاء الفرض والواجب۔ ترجمہ : فرض اور واجب کی قضاء ہے(ج2/ کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، صفحہ 524)اعلی حضرت علیہ الرحمہ و الرضوان فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں ﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں۔تحقیق مقام و تنفیح مرام یہ ہے کہ حقیقۃ قضا نہیں مگر فرض یا واجب کی۔( جلد 8/ صفحہ 147)۔
(ا)
سنت مؤکدہ اور تراویح کو چھوڑنا جائز نہیں ہے البتہ قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انھیں چھوڑ کر ان کے بدلے قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہو جائے۔رد المحتار میں ہے : و أما النفل فقال في المضمرات : الاشتغال بقضاء الفوائت اولي و اهم من النوافل، ألا سنن المفروضة و صلاة الضحي و صلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار۔(ج2/ کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیۃ بالختمات و التھالیل، صفحہ 536)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : خالی نفلوں کی جگہ بھی قضائے عمری پڑھے۔( جلد 8/ صفحہ 158)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انھیں چھوڑ کر ان کے بدلے قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہو جائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ کی نہ چھوڑے۔( حصہ چہارم، صفحہ 711)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
17/ جمادی الاخری 1445ھ
30/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

