تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

نوکری کی وجہ سے نماز کو چھوڑنا کیسا؟ ایسی جگہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ملازم کو نماز قضا کر کے پڑھنا کیسا؟

0



نوکری کی وجہ سے نماز کو چھوڑنا کیسا؟

رقم الفتوی : 582


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ

زید ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازم ھے اور اسے نماز ظھر،عصر،و مغرب وقت مقررہ پر ادا نھیں کر سکتا وجہ یہ ھے کہ اس کے پاس میں مسجد نھیں ھے کافی دور ھے اور وقت اور حالات اجازت نھیں دیتے پھر جب زید گھر واپس ھوتا ھے تو وہ اپنی اس قضاء نماز کو واپسی کے بعد عشاء سے قبل ادا کرتا ھے تو اس طرح اگر قضاء پڑھا تو اس کی نماز ھو جائیگی یا نہیں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

سائل :  محمد واصل قادری بہار

..............................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : ہر مسلمان عاقل بالغ پر پانج وقت کی نماز، مقررہ وقت پر ادا کرنا فرضِ عین ہے۔ نماز کا ترک کرنا اور بلا عذر شرعی جماعت کا چھوڑ دینا سخت گناہ و حرام ہے۔ اور ملازمت ایسا عذر معقول نہیں کہ اس کی وجہ سے مقررہ وقت پر نماز نہ پڑھے یا جماعت کو چھوڑ دے۔اور مالک کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ملازم کو فرض نماز کی ادائیگی سے منع کرے۔اور ملازم کو مالک کی بات ماننا جائز نہیں۔اگر مالک نہ مانے تو ایسے مالک کے ہاں ملازمت جائز نہیں،مذکورہ ملازمت کے بجائے دوسری جگہ معاش کا ذریعہ تلاش کرنا لازم ہے۔اس لئے کہ روزی دینے والا تمہارا، ان کا، سب کا اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔اور خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُـمْ۔ترجمہ : ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے۔( سورہ انعام، آیت 151)،ترمذی شریف میں ہے : عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " السمع والطاعة على المرء المسلم فيما احب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإن امر بمعصية، فلا سمع عليه ولا طاعة " ترجمہ : عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“(كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،باب ما جاء لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق،صفحہ 518)۔در مختار مع رد المحتار میں ہے :” بل ولا أن يصلي النافلة قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل الى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة “ ترجمہ : بلکہ وہ نوافل بھی نہیں پڑھ سکتا ۔ تتار خانیہ میں فرمایا کہ فتاویٰ فضلی میں ہے : اسی طرح جب کسی بندے کو ایک دن کے لیے اجیر رکھا ، تو اس ( اجیر ) پر لازم ہے کہ وہ مدت مکمل ہونے تک اس کا کام کرتا رہے اور فرض نمازوں کے علاوہ کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو۔( جلد 6/ کتاب الاجارہ،باب ضمان الاجیر ،صفحہ 70)فتاویٰ رضویہ میں ہے :” اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم نفس لازم ہے اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے، ہاں اگر تسلیمِ نفس میں کمی کرے،مثلا : (کام پر ) حاضر تو آیا،لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یا دوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئی،بہر حال جس قدر تسلیمِ نفس میں کمی کی ہے،اتنی تنخواہ وضع ہوگی۔ملخصاً۔(جلد 19/صفحہ 506 )۔بہار شریعت میں ہے : ” اجیر خاص اُس مدت مقرر میں اپنا ذاتی کام بھی نہیں کر سکتا اور اوقاتِ نماز میں فرض اور سنت مؤکدہ پڑھ سکتا ہے،نفل نماز پڑھنا اس کے لیے اوقات اجارہ میں جائز نہیں۔( جلد سوم،حصہ 14،صفحہ 161)۔

لہذا اگر وہ نماز کو قضا کر کے پڑھے تو وہ گناہگار ہوا اور اس کی نماز ہو جائے گی۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

17/ جمادی الاخری 1445ھ

30/ دسمبر 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad