رقم الفتوی : 583
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ زید جو فاسق وفاجر تھا اور اعلانیہ نماز و دوسرے عبادات کا تارک تھا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے آمین بہر حال زید کی وفات کے بعد جنازے کی نماز پڑھی گیٔ پھر تدفین کے بعد فاتحہ خوانی ہوئی بکر جو ایک عالم ہے اس نے دعاء مانگی اور دوران دعاء اس طرح کے کلمات کے ساتھ دعاء مانگی کہ اے اللہ مرحوم و مغفور زید کی مغفرت فرما اے اللہ مرحوم و مغفور زید کے گناہ صغیرہ و کبیرہ کو معاف فرما وغیرہ وغیرہ ۰ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا مغفور لفظ زید جیسے عام مسلمانوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا
فقط والسلام
المستفتی : العبد الحقیر مشتاق احمد رضوی گوا باڑی
................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صدر الشریعہ بدر الطريقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں جو کسی کافِر کیلئے اس کے مرنے کے بعد مغفِرت کی دُعا کرے یا کسی مُردہ مُرتد کو مرحوم(یعنی رحمت کیا جائے)یا مغفور(یعنی مغفرت کیا جائے)یا کسی مرے ہوئے ہندو کو بَیْکُنْٹھ (بے۔کُنْ۔ٹھ)باشی(یعنی جنّتی)کہے وہ خود کافِر ہے (بہار شريعت،جلد اول، حصّہ1/ صفحہ 97)۔
لہذا کسی سنی مومن کو مرحوم یا مغفور کے کلمات کے ذریعے دعا کرنا بالکل جائز و درست ہے لیکن کافر کے لئے نہیں۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
17/ جمادی الاخری 1445ھ
30/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

