تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

بیوی کی بات پر قاضی نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ ماں کی گواہی بیٹی کے حق میں قبول ہے یا نہیں؟

0
بیوی کی بات پر قاضی نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 579



السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ

ہندہ کی شادی ہوئی دو بچے بھی ہوا ہندہ بکر کے ساتھ بھاگ گئی ہے ہندہ کہتی ہے میں اب اپنے شوہر کے پاس نہیں جاؤں گی بکر کے ساتھ شادی کرنا ہے بکر بھی راضی ہے اب ہندہ کہتی ہے کہ میرا شوہر دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے ہندہ کی ماں کو بھی پتا ہے کہ دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے علمائے کرام حدیث و قرآن کی روشنی میں بتائیں کیا ہندہ بکر کے ساتھ شادی کر سکتا ہے جو اس کا نکاح پڑھاتا ہے اس کے اوپر شریعت کا کیا حکم لگے گا

جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں


سائل : محمد اظہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا

.................................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : ہندہ کا بیان کہ شوہر نے دو مرتبہ طلاق دی ہے نہیں مانا جائے گا اس لئے کہ جب ہندہ بکر کے ساتھ بھاگ سکتی ہے اور حرام کاری بھی کر رہی ہے تو اس کی بات کا کیا اعتبار وہ جھوٹ بھی بول سکتی ہے۔اور ماں کی گواہی بیٹی کے لیے مقبول نہیں۔

لہذا نکاح پڑھانے والے پر ضروری ہے کہ شوہر سے تحقیق کرے کہ اس نے طلاق دی ہے یا نہیں،اگر وہ طلاق کا اقرار کرے تو نکاح پڑھا سکتا ہے۔ اور ہندہ کی بات پر نکاح پڑھانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔اگر بے تحقیق کے نکاح پڑھا دے تو گناہ میں سب کے سب برابر کے شریک ہوں گے۔اس لئے کہ اگر شوہر نے طلاق نہ دی تو بدستور اس کی بیوی ہے۔ اس کا نکاح کسی اور سے کرنا سخت ناجائز وحرام قطعی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : "وَالْمُحْصِنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ " ترجمہ : اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔( پارہ 5 سورہ نساء آیت 24)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

11/ جمادی الاخری 1445ھ

25/ دسمبر 2023ء   

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad