رقم الفتوی : 618
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا مسجد کی لائٹ کوئی بھی شخص اپنے گھر میں استعمال کرسکتا ہے مسجد میں اجرت دےکر؟
بہت ضروری ہے جلد جواب ارسال فرمائیں مہربانی ہوگی
سائل ۔۔۔۔سرور رضا نوری احمد آباد گجرات
..........................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مسجد کی لائٹ کو اجرت پر دینا اس وقت جائز ہے کہ قبل تمام مسجد دیا ہو، اور مسجد ہو جانے کے بعد دینا جائز نہیں ہے۔درمختار میں ہے: لو بني فوقه بيتا للامام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق۔یعنی اگر مسجد کی چھت پر امام کے لئے گھر بنایا تو نقصان نہیں کہ یہ بھی مصالح مسجد سے ہے مگر مسجد پوری ہونے کے بعد اگر امام کے لئے بھی گھر بنانا چاہے گا نہ بنانے دیں گے اور اگر کہے گا میری پہلے سے نیت تھی جب بھی نہ مانیں گے(ج 6/کتاب الوقف،صفحہ 548)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : اور یہ خیال کہ بہت مساجد میں مکان پیش امام و مؤذن کی سکونت کو بنے ہوئے ہیں نفع نہ دے گا، علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد بن جانے سے پہلے اگر بانی مسجد ایسا کوئی مکان بنا دے تو جائز ہے اور اس کے بعد اگر خود بانی مسجد آئے اور بنانا چاہے تو اجازت نہ دیں گے اگر چہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اول ہی سے میری نیت اس کے بنانے کی تھی۔( جلد 16/صفحہ 323)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
15/ ذی الحجہ 1445ھ
22/ جون 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

