تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

رافضی سے ملنا جولنا کیسا؟ ایسے شخص کے بارے میں لوگوں بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

0

 

رافضی سے ملنا جولنا کیسا؟

رقم الفتوی : 619

حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی اُمید ہے کہ آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے جی ایک سوال یہ ہے میرے سمجھ میں نہیں ا رہا ہے اور آ بھی رہا ہے لیکن اپنے سے بڑوں سے پوچھ لیں تو اچھا ہی ہوگا جی ایک گاؤں میں ایک لڑکا ہے جو تقریبا 15 سال کا ہے اور وہ رافضی کے مدرسے میں پڑھ رہا ہے اور وہ جو ہے حضرت امیر معاویہ کے بارے میں اور ان کے والدہ کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ ان کے والدہ بدچلن تھی اور زانیہ تھی لوگوں کو بلا کر وہ زنا کرواتی تھی تو حضرت یہ بتائیے کہ اس لڑکے کے بارے میں کیا حکم ہے اور وہ لوگوں کے بیچ میں رہتا ہے سارے گاؤں کے لوگ جانتے نہیں ہیں کہ یہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے کس کو مانتا ہے کس کو نہیں مانتا ہے لوگوں سے وہ سلام وغیرہ بھی کرتا ہے تو آپ حضرت یہ بتائیے کہ لوگوں سے بتا دینا چاہیے کہ یہ دین اسلام سے پھر چکا ہے یا نہیں لوگوں سے بتا دینا چاہیے کہ یہ مسلک اعلی حضرت کا مبلغ نہیں ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیارے صحابہ کو ماننے والا نہیں ہے جی لوگوں سے بتانا چاہیے لوگوں کو روکنا چاہیے کہ  اس سے ملنے سے یا نہیں روکنا چاہیے جی مہربانی ہوگی حضرت اور وہ بچہ جو ہے کچھ مولوی حضرات سے بھی ملتا ہے جو مسلک اعلی حضرت کو ماننے والے ہیں ان سے بھی ملتا ہے وہ سنی صحیح العقیدہ لوگوں سے ملتا ہے جو پکے سنی صحیح العقیدہ ہیں ان سے بھی ملتا ہے تو اب ان لوگوں سے بتا دینا چاہیے کہ اس بچے سے اور اس بچے کے گھر والوں سے آپ لوگ ملنا جھلنا بند کر دیں اس لیے کہ یہ رافضی ہو گیا ہے اور یہ گمراہ بد دین ہو گیا لہذا اپ لوگ اس سے سلام 
وغیرہ نہ کریں اور اس سے بچیے۔

سائل   ۔ محمد اویس رضا قادری
..........................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر وہ واقع ہی رافضی ہو گیا ہے تو اس سے ملنا جولنا سلام و کلام کرنا سب حرام ہے۔ اور اس کے بارے میں لوگوں بتا دینا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں۔ اگر وہ رافضی مدرسہ میں پڑھتا ہے لیکن عقائد عقائد اہل سنت و جماعت یعنی سنی صحیح العقیدہ کا ہے تو اسے سمجھایا جائے کہ ان کے مدرسے میں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ کہ تم اہل سنت و جماعت کے مدرسے میں تعلیم حاصل کرو۔قرآن پاک میں ہے : وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔( پارہ 7 سورہ انعام آیت 68)۔مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔ ( جلد 2 صفحہ 466 )۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عموماً ایسے ہی ہیں اُن میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقد نہ ہو جب تو وہ کافر مرتد ہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدید ہے۔( ج 9/ صفحہ 172)۔اسی میں ہے : یہ فرقے ( یعنی قادیانی، غیر مقلد، اہل قرآن، رافضی،)اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔اسی میں ہے : ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں، ان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہے۔( جلد 14 
صفحہ 412/410

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
25/ محرم الحرام 1446ھ
01/ اگست 2024ء
 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad