رقم الفتوی : 623
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ پنجگانہ نماز میں وقت ہونے سے ۱۲ یا ۱۵ منٹ پہلے کسی نے اذان پڑھ دی تو کیا نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی یا پھر سے وقت ہونے پر اذان پڑھی جائے گی
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے
العارض ۔ محمد نجم الحق نعیمی بنگال
......................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : پنجگانہ نماز كا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دینے سے اذان نہیں ہوگی۔لہذا نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد دو بارہ اذان دی جائے۔جب کہ وقت باقی ہو۔اگر اسی اذان سے نماز پڑھی تو نماز ہو جائے گی۔لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ بدائع الصنائع میں ہے : وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات،حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها۔ یعنی اذان اور اقامت کا وقت وہی ہے جو فرض نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ اگر مؤذن نے وقت داخل ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو یہ اذان کافی نہ ہوگی، لہذا جب نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اس وقت میں اذان کا اعادہ کیا جائے گا (تمام نمازوں میں یہی حکم ہے)۔ (ج1/ کتاب الصلاۃ، باب الاذان،صفحہ 154)۔بحر الرائق میں ہے : ولا يؤذن قبل وقت ويعاد فيه أي في الوقت إذا أذن قبله؛ لأنه يراد الإعلام بالوقت فلا يجوز قبله۔یعنی وقت سے پہلے اذان نہیں دی جائے اور اگر وقت سے پہلے اذان دے دی تو اس نماز کے وقت میں اذان کا اعادہ کیا جائے گا، کیونکہ اذان وقت شروع ہونے کی خبر دینے کے لیے ہے لہذا وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں۔ (ج1/ کتاب الصلاۃ، باب الاذان، صفحہ 456/455)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے، قبل از وقت کہی گئی يا وقت ہونے سے پہلے شروع ہوئی اور اَثنائے اَذان میں وقت آگیا، تو اعادہ کی جائے۔( حصہ اول، صفحہ 465)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
13/ صفر المظفر 1446ھ
19/ اگست 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

