تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

جانور کے ساتھ بد فعلی کرنے والے پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اس جانور کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟

0


جانور کے ساتھ بد فعلی کرنے والے پر شریعت کا کیا حکم ہے؟

رقم الفتوی : 622


السلام عليكم و رحمة الله و بركاته 

 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس سوال میں کہ جانور کے ساتھ بد فعل کرنے والے کی کیا سزا ہے ؟ اور اس جانور کے لئے کیا شرعی حکم ہے ؟ اگر ملک میں اس جانور کے ذبح پر پابندی ہو تو کیا کیا جائے؟


مرشد حنفی، بہار ، انڈیا

..........................................

الجواب بعونہ تعالیٰ : ایسے شخص پر تعزیر ہے جس کا اختیار حاکم کو ہے، وہ جانور ذبح کر کے فنا کردیا جائے اور گوشت کھال کو جلا دیں اور پالا نہ جائے۔یہ اس جانور کا حکم ہے جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے۔ اگر اس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔ در مختار میں ہے : لا یحد بوطی بھیمة بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیة ومیتة۔ یعنی حیوان سے بدفعلی پر حد نہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کر کے جلا دیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہے۔(ج6/کتاب الحدود،باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ، صفحہ 36)۔رد المحتار میں ہے : ھذا اذا کانت مما لایؤکل فان کانت تؤکل جاز اکلھا عندہ وقالا لاتحرق ایضا۔ یعنی یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتا، اور اگر اس کو کھایا جاتا ہو تو کھانا جائز ہے، امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلا بھی دیا جائے۔(ج6/ کتاب الحدود،باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ، صفحہ 36)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : بالغ پر تعزیر ہے جس کا اختیار حاکم کو ہے، وہ جانور ذبح کر کے فنا کر دیا جائے گوشت کھال جلائیں، پالانہ جائے۔( حصہ 13/ صفحہ 627)۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے : مرد نے چوپایہ سے وطی کی یا عورت نے بندر سے کرائی تو دونوں کو سزا دینگے اور اوس جانور کو ذبح کرکے جلادیں، اوس سے نفع اوٹھانا مکروہ ہے۔ ( حصہ 9/ صفحہ 383)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

30/ محرم الحرام 1446ھ

06/ اگست 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad