رقم الفتوی : 621
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں مسجد کی چھت پر حجرہ بنانا کیسا ہے جبکہ بانیان مسجد بنیاد مسجد ہی کے وقت نیت کرلی ہو کہ مسجد کی چھت پر امام صاحب کے لئے بعد میں حجرہ بنانا ہے حجرہ بنانے کی سنگ بنیاد کے وقت نیت کی ہو یا نا کی ہو دونوں صورتیں میں حجرہ بنانا جائز ہے یا دونو ہی نہ جائز ہیں یا کون سی صورت میں جائز ہے۔
(سائل : رضوان احمد قادری نوئیڈا سیکٹر63 یوپی )
......................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : قبل تمام مسجد،مسجد کی چھت پر حجرہ بنانا جائز ہے،اور مسجد تمام ہو جانے کے بعد بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر چہ وہ بنانے کی نیت ظاہر کرے کہ میری نیت اس کے بنانے کی تھی۔درمختار میں ہے: لو بني فوقه بيتا للامام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق۔یعنی اگر مسجد کی چھت پر امام کے لئے گھر بنایا تو نقصان نہیں کہ یہ بھی مصالح مسجد سے ہے مگر مسجد پوری ہونے کے بعد اگر امام کے لئے بھی گھر بنانا چاہے گا نہ بنانے دیں گے اور اگر کہے گا میری پہلے سے نیت تھی جب بھی نہ مانیں گے(ج 6/کتاب الوقف،صفحہ 548)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : اور یہ خیال کہ بہت مساجد میں مکان پیش امام و مؤذن کی سکونت کو بنے ہوئے ہیں نفع نہ دے گا، علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد بن جانے سے پہلے اگر بانی مسجد ایسا کوئی مکان بنا دے تو جائز ہے اور اس کے بعد اگر خود بانی مسجد آئے اور بنانا چاہے تو اجازت نہ دیں گے اگر چہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اول ہی سے میری نیت اس کے بنانے کی تھی۔( جلد 16/صفحہ 323)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
22/ محرم الحرام 1446ھ
29/ جولائی 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

