رقم الفتوی : 701
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ کونڈے کی فاتحہ کی چیزیں کھیر پوری وغیرہ باہر لے جانا جائز ہے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ کونڈے کی فاتحہ کی چیزیں باہر لے جانے سے منع کرتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟
سائل : بندئہ خدا
..........................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : کونڈے کی فاتحہ کی چیزیں کھیر پوری وغیرہ باہر لے جانا جائز و درست ہے۔ اور باہر لے جانے پر پابندی لگانا جہالت و حماقت ہے۔جنتی زیور میں شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " کونڈوں کی فاتحہ میں جاہلوں کا یہ فعل مذموم اور نری جہالت ہے کہ جہاں کونڈوں کی فاتحہ ھوتی ہے وہیں کھلاتے ہیں وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے یہ پابندی غلط اور بیجا ہے۔( جنتی زیور، صفحہ 474 )۔فتاوی امجدیہ میں ہے :( لوگوں کا ) یہ خیال کہ اپنی جگہ سے کونڈا ہٹایا نہ جائے جہالت ہے انہیں سمجھایا جائے بلکہ قول و عمل سے عوام کو بتایا جائے اور ان پر ظاہر کیا جائے کہ اس جگہ سے ہٹانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ (جلد 4/صفحہ 134)۔وقار الفتاوی میں ہے : لوگوں نے یہ شرط لگالی کہ وہیں بیٹھ کر کھالیں باہر نہ لے جائیں۔اس شرط کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں،وہاں بھی کھا سکتے ہیں اور باہر بھی لے جا سکتے ہیں ۔( جلد 1/ صفحہ 202 ) حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ دوسری فاتحہ کے کھانوں کی طرح اس کو بھی باہر بھیجا جا سکتا ہے۔ (اسلامی زند گی، صفحہ 75 )۔
۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
13/ رجب المرجب 1447ھ
3/ جنوری 2026ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

