رقم الفتوی : 718
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضور عرض یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ویڈیو کال پر نکاح کیا
تو کیا نکاح ہو جائیگا؟
یا لڑکا اور لڑکی دونوں ایک جگہ موجود ہوں اور دو گواہ کال پر ہوں تو کیا اس طرح نکاح ہو جائیگا؟
سائل: عنبر علی
......................................
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : ویڈیو کال، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر اگر چہ گواہان کی صورت نظر آئے مگر اس پر لی گئی شہادت حقیقت میں شہادت نہیں ہے۔ شہادت کا لغوی معنیٰ ہے حضور اور شاہد کا معنیٰ ہے حاضر یہاں گواہ مجلس قضاء میں حاضر نہیں بلکہ وہاں سے بہت دور اور غائب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مشین کی وجہ سے اس کا عکس نظر آرہا ہے، یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ شاہد شخص ہے نہ کہ عکس کی رویت شخص کا شہود و حضور قطعاً نہیں ہوسکتا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں ویڈیو کال، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ پر شہادت کے کلمات ادا کرنے کی شرعی حیثیت محض خبر کی ہے شہادت کی نہیں۔جب شہادت نہیں تو نکاح بھی نہیں ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: سماع الشاهدين كلامهما معا. یعنی یہ شرط ہے کہ دونوں گواہ دونوں عقد باندھنے والوں کا کلام ایک ساتھ سنیں۔ (ج1/ کتاب النکاح، صفحہ 268)۔ہدایہ میں ہے: ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين اور رجل و مراتين عدولا اور غير عدول.(ج 1/ كتاب النكاح،صفحہ 306)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
26/ محرم الحرام 1448ھ
12/ جولائی 2026ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

