رقم الفتوی : 716
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتی عظام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک مسجد ہے مسجد میں پنج وقت کی نماز اور جمعہ بھی ہوتی ہے جمعہ کے دن لوگ بہت زیادہ اتے ہیں جس کی وجہ سے مسجد میں سب لوگوں کی جگہ نہیں ہوتی تو مسجد کے سامنے آٹھ فٹ کا راستہ ہے لوگوں کےآنے جانے کا اس کے بعد مسجد کی گراؤنڈ ہے یعنی مسجد اور مسجد کے گراؤنڈ کے درمیان آٹھ فٹ کا راستہ ہے تو جب مسجد بھر جاتی ہے اور لوگ زیادہ آتے ہیں تو اس گراؤنڈ کے اندر جماعت کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے ہیں مسئلہ یہ ہے جماعت کے ساتھ گراؤنڈ میں نماز پڑھنے والوں کی نماز ہو جائے گی جو بیچ میں راستہ ہے کیا اس سے نماز فاسد ہو جائیگی اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نماز ہو جائے گی اور کوئی کہتا ہے کہ نماز نہیں ہوگی اس لیے کہ بیچ میں راستہ ہے اور فاصلہ ہے اس لئے نماز نہیں ہوگی اور اس راستے سے کوئی بھی نماز کے وقت گزرتا بھی نہیں ہیں کیا ان لوگوں کا کہنا صحیح ہیں جو کہتے ہیں کہ نماز ہو جائے گی یا پھر ان کا جو کہتے ہیں کہ نماز نہیں ہوگی مفتیان کرام جواب عنایت فرمائیں
اور جو کہتے ہیں کہ نماز ہوگی اور جو کہتے ہیں کہ نماز نہیں ہوگی تو ان دونوں کے اوپر حکم شرع کیا ہوگا
قران و حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کو موقع عنایت فرمائے
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
سائل : عمران احمد،مقام کملاپور ضلع گلبرگہ شریف،کرناٹک،تاریخ ١٢ محرم الحرام ١٤٤٨ھ ٢٨ جون ٢٠٢٦ء
..............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں امام و مقتدی کے درمیان آٹھ فٹ کا راستہ ہے تو مانع اقتداء ہے جب مانع اقتداء ہے تو ان لوگوں کی نماز بھی نہیں ہوگی۔جس طرح امام و مقتدی کے درمیان اتنا چوڑا راستہ ہو جس میں بیل گاڑی جاسکے، تو اقتدا نہیں ہوسکتی۔تنوير الابصار مع الدر المختار میں ہے : (و يمنع من الاقتداء) (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور ( أو نهر تجري فيه السفن)ولو زورقا.(ج 2/ کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، صفحہ 400)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : المانع من الاقتداء ثلاث أشياء : منها طريق عام : يمر فيه العجلة و الاوقار هكذا في شرح الطحاوي. و منها نهر عظيم. (ج 1/کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، الفصل الرابع فی بیان۔۔۔الخ۔ صفحہ 96)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : امام و مقتدی کے درمیان اتنا چوڑا راستہ ہو جس میں بیل گاڑی جاسکے، تو اقتدا نہیں ہوسکتی۔ یوہیں اگر بیچ میں نہر ہو جس میں کشتی یا بجرا یعنی ایک قسم کی گول اور خوبصورت کشتی چل سکے تو اقتدا صحیح نہیں،اگرچہ وہ نہر بیچ مسجد میں ہو اور اگر بہت تنگ نہر ہو جس میں بجرا بھی نہ تیر سکے، تو اقتدا صحیح ہے۔( حصہ سوم، صفحہ 567)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
22/ محرم الحرام 1448ھ
8/ جولائی 2026ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

