رقم الفتوی : 720
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت ایک سوال عرض ہے آپ کی بارگاہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
زید جو دن بھر کسی غیر محرم سے بات کرتے رہتا ہے مسجد کے اندر: اب بکر کا کہنا ہے کہ زید کا امام بننا اور اس کے پیچھے جو نماز پڑھی جائے وہ صحیح نہیں ہوگی اور ان نمازوں کا اعادہ کرنا پڑے گا؟ کیا بکر کا کہنا درست ہے اور زید کے اس فعل سے اس پر شریعت کا کیا حکم لگے گا قرآن وحدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
گداے اہل بیت :مقام رامپور ✨
......................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ :مرد کا کسی بھی غیر محرم سے بلا ضرورت بات چیت کرنا ناجائز و حرام ہے اور مسجد میں سخت حرام ہے۔ اور جو ناجائز و حرام کام کرے فاسق ہے۔لہذا اگر زید کھلم کھلا ( سب لوگوں کے سامنے) غیر محرم سے بات چیت کرتا ہو تو وہ فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی، اور پڑھ لی ہو تو لوٹانا واجب ہے۔ اگر زید چھپ کر بات چیت کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو فاسق ہے اور فاسق کو امام بنانا مکروہ تنزہی ہے خلاف اولیٰ یعنی نماز ہو جائے گی۔رد المحتار میں ہے : الفاسق هو الخروج عن الاستقامة و لعل المراد به يرتكب الكبائر كشارب الخمر. ( ج2/ مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد، صفحہ 298)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : اگر علانیہ فسق وفجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں۔فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروہۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔کیونکہ تقدیم فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے، پس دونوں کو درجہ ایک ہوا، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں۔لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لاتکرہ الاتنزیھا۔کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے۔( جلد 6/ صفحہ 600)۔اسی میں ہے : فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولی ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب۔( جلد 6/ صفحہ 601)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
22/ ربیع الاخر 1447ھ
15/ اکتوبر 2025ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_