رقم الفتوی : 719
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اہل حلقہ کی خدمت اقدس میں ایک سوال عرض یہ ہےکہ والدین کی رضا مندی کے بغير نکاح ہوگا یا نہیں ؟ اگر تیار شدہ پوسٹ ہوتو ارسال کریں اگر نہیں ہے تو اہل حلقہ قرآن و حدیث و فقہاۓ کرام کی روشنی میں مدلل و مفصل اور جامع مسکت جواب سے نوازیں مع حوالہ جات بھی ۔۔۔۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
ساٸل : حافظ اختر رضا نوری
........................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : والدین کی رضا مندی کے بغير بھی نکاح ہو جائے گا اس لیے کہ نکاح نام ہے زوجین کو ایجاب و قبول روبروئے گواہان کرادینے اور شرائط صحت متحقق ہونے کا۔ مگر والدین کو ناراض کرنا گناہ کبیرہ ہے۔اسے چاہئے کہ وہ والدین کو راضی کرے۔اور والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد پر شفقت کریں۔فتح القدیر میں ہے : ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامراتین، ولا بد من اعتبار الاسلام فی انکحة المسلمین لانه لا شھادۃ للکافر علی المسلم۔(ج 3/کتاب النکاح، صفحہ 193/190دار الکتب العلمیۃ)سنن ترمذي میں ہے: عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: رضا الرب في رضا الوالد،وسخط الرب في سخط الوالد. ترجمہ: عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔(كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لحرمۃ العقوق ولوجوب طاعة الزوج۔اس لئے کہ والدین اور شوہر کی نافرمانی حرام ہے (ماخوذ جلد 22 صفحہ 116)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
1/ رجب المرجب 1447ھ
23/ دسمبر 2025ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_
