رقم الفتوی : 721
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خیریت سے ہیں مفتی صاحب قبلہ آپکی بارگاہ میں عریضہ ھےکہ اس سوال کا دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں آپکی مہربانی ہوگی
١ سوال نمبر
اگر امام صاحب ظہرکی نمازمیں بلند آواز سے الحمد یا الحمدللہ پڑھ دیا توسجدہ سہو واجب ہو گا یا نہیں؟
٢ سوال نمبر
امام صاحب دو رکعت کے بعد جب تشہد میں بیٹھا التحیات کے ساتھ درود شریف کے کچھ کلمات پڑھ دیا جیسے اللہم صل علی تو کیا اس سے سجدہ سہو واجب ہوگا؟
٣ سوال نمبر امام صاحب کو دو رکعت کے بعد بیٹھنا تھا تشہد کیلئے مگر بھولے سے امام صاحب کھڑا ہو گیا مقتدی نے لقمہ دیا پھر امام صاحب بیٹھ گیا تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟
آپ سے گزارش ہے جواب عنایت فرماکر شکریہ موقع دیں مہربانی ہوگی
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
مولانا محمد رضافردوس انجم اشرفی مقیم حال راجستھان
..................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر امام نے سرّی نماز میں جہر سے پڑھے تو سجدۂ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔
(ا)
اگر امام نے سہواً قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھ دیا "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ" یا "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا " تو سجدۂ سہو واجب ہے۔عمداً ہو تو اعادہ واجب ہے۔اگر اس سے کم پڑھا ہو تو سجدہ سہو واجب نہیں۔ہدایہ میں ہے : ويسجود للسهو فى الزيادة والنقصان سجدتين بعد سلام ،قال يلزمه السهو اذا زاد فى صلاته فعلا من جنسها ليس منها وهذا يدل على ان سجدة السهو واجبة هو الصحيح لأنها تجب لجبر النقص تمكن فى العبادة فتكون واجبة ۔( ج1 باب سجود السہو صفحہ 451 )۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ امام اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، حضور(صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا: ’’درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں سجدہ واجب بتایا؟‘‘ عرض کی، اس لیے کہ اس نے بُھول کر پڑھا، حضور (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے تحسین فرمائی۔ ( حصہ 4 صفحہ 716 )۔
(ب)
اگر امام صاحب نے فرض کے قعدۂ اولیٰ بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا ہو تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو سجدۂ سہو کرے اور صحیح مذہب میں نماز ہو جائے گی مگر گنہگار ہوا لہٰذا حکم ہے کہ اگر لوٹے تو فوراً کھڑا ہو جائے۔اگر امام صاحب سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرنے کی ضرورت نہیں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : جو شخص فرض یا وتر میں پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہونے لگے اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو واپس لوٹ آئے اب اگر وہ قعود کے قریب تھا تو سجدہ سہو لازم نہ ہوگا اور اگر قیام کے قریب تھا تو سجدہ سہو لازم ہوگا کہ جب تک انسان کا نیچے والا حصہ سیدھا نہ ہو وہ بیٹھنے کے قریب ہوتا ہے اور اگر نیچے والا نصف حصہ سیدھا ہو جائے خواہ ابھی پشت ٹیڑھی ہو وہ کھڑا ہونے کے قریب ہوگا، اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو اب بیٹھنا جائز نہیں،اب اگر پہلے قعدے کی طرف لوٹ آتا ہے تو گنہگار ہوگا، اور راجح یہ ہے کہ اس کی نماز ختم نہ ہوئی اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا، درمختار میں ہے : اگر فرض ( اگر چہ عملی ہوں) کے پہلے قعدے کو بھول گیا پھر اسے یاد آیا اور لوٹ آیا تو اب اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں بشرطیکہ وہ سیدھا کھڑا نہ ہوا یہی ظاہر مذہب ہے اور یہی اصح ہے فتح۔ اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ لوٹے اگر لوٹ آیا تو نماز فاسد نہ ہوگی لیکن گناہگار ہوگا اور تاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ کرے اور یہی مختار ہے جیسا کہ اس کی تحقیق کمال نے کی ہے اوریہی حق ہے بحر اھ مختصر۔ وفی ردالمحتار قولہ ولاسھو علیہ فی الاصح یعنی اذا عاد قبل ان یستتم قائما وکان ای القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر۔ رد المحتار میں ہے : قولہ اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں یعنی جب کہ وہ سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے لوٹا حالانکہ وہ قعود کے قریب تھا تو اب اس پر اصح قول کے مطابق سجدہ نہیں اور اکثر فقہاء کی یہی رائے ہے۔(جلد 8/ صفحہ 221 )۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
9/ جمادی الاول 1447ھ
01/ نومبر 2025ء
