تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

عقیقہ کا گوشت کون کون کھا سکتا ہے؟ عقیقہ کرنے والے کے والدین اور دادا دادی کو روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟

0


عقیقہ کا گوشت کون کون کھا سکتا ہے؟





رقم الفتوی : 722




السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ


جس کے نام سے عقیقہ ہو تو کیا اس کو روزہ رکھنا ضروری ہے یا اس کے والد والدہ اور دادی دادا کو بھی روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں 


جس کے نام سے عقیقہ ہے وہ گوشت کھا سکتے ہے اور کیا گھر کے تمام افراد کھا سکتے ہیں یا نہیں




یا اس کے والد والدہ کے نام سے عقیقہ ہو تو کس طرح عقیقہ کریں


دونوں صورتوں میں وضاحت فرما دے 


اپ لوگ بھی بہت بہت مہربانی 


https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html




سائل : محمد نسیم احمد قادری ضلع بحرائیچ شریف الہند یو پی


........................................


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


الجواب بعونہ تعالیٰ : جس کے نام سے عقیقہ ہو اس کو یا اس کے والد والدہ اور دادی دادا کو روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ہاں اگر رکھنا چاہیے تو رکھ سکتے ہیں۔اور عقیقہ کا گوشت سب کھا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔جس کے نام سے بھی عقیقہ ہو لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا۔اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : کم سے کم ایک تو ہے ہی، اور پسر کے لئے دو افضل ہیں،استطاعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے۔( جلد 20/ صفحہ 586)۔بہار شریعت جلد سوم میں ہے : لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔( حصہ 15/ عقیقہ کا بیان، صفحہ 359)۔اسی میں ہے : عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔۔( حصہ 15/ عقیقہ کا بیان، صفحہ 359)۔






https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html




وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ


حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔


8/ جمادی الاول 1447ھ


31/ اکتوبر 2025ء 

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad