تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

ہپی دیوالی کی مبارکبادی دینا کیسا ہے؟ کافروں کو نمستے کہنا کیسا ہے؟

0


ہپی دیوالی کی مبارکبادی دینا کیسا ہے؟

رقم الفتوی : 723


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ دیوالی کے موقع میں کافروں کو دیوالی کی مبارکبادی دینا یعنی ہپی دیوالی کہنا یا انہیں نمستے وغیرہ کہنا کیسا ہے اس مسئلے کا جواب دے کر کے شکریہ کا موقع دیں 

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

سائل : محمد رضوان احمد رضوی

..............................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : مسلمانوں کو ہندوں کی دیوالی کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دینا کفر ہے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وبتحسين أمر الكفار إتفاقا۔ ترجمہ: اگر وہ امر کفار کی تحسین کرتاہے تو بالاتفاق تکفیر کیا جائیگا ( كتاب السير، الجزء الثاني، صفحه 277)۔اگر وہ یہ جانتے ہوئے مبارک باد دیا کہ مسلمان اور کافر دونوں ایک ہے اور صحیح ہے تو یہ بھی کفر ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے : من أعتقد ان الإيمان والكفر واحد فهو كافر. ترجمہ: جس نے اعتقاد رکھا ایمان و کفر ایک ہے تو وہ کافر ہے۔ (کتاب السیر، الجزء الثانی، صفحہ257)۔ اگر وہ ہندوں کی دیوالی ںسے خوش وراضی ہو کر مبارک باد دیا یہ بھی کفر ہے۔اسی میں ہے : من يرضی بكفر غيره ويفكر عليه الفتوى۔ ترجمہ : جو شخص دوسرے کے کفر پر راضی ہو تو اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔ (كتاب السير الجزء الثاني صفحه 257)۔لہذا وہ شخص پر لازم ہےکہ وہ توبہ اور تجدید ایمان کرے اگر وہ شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اگر وہ کسی سے مرید ہو تو تجدید بیعت بھی کرے۔اگر وہ کفاروں کی دلجوئی کے لیے مبارک باد دیا تو یہ اشد اشد حرام و ناجائز ہے۔اس لئے کہ کفاروں سے میل جول رکھنا اشد حرام ہےجو مسلمان ہندوں کو اپنا دوست رکھتے ہیں تووہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ. ترجمہ : اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے.(پارہ 6 سورہ مائدہ أيت 51) حدیث شریف میں ہے: من تشبه بقوم فهو منهم۔ ترجمہ:جو جس قوم سے تشبہ رکھے وہ انہیں ہی میں سے ہے(سنن ابو داؤد کتاب الباس صفحہ 559 )۔

(ا)

کسی کافر کو نمستے کہنا، سخت ناجائز و گناہ ہے، اس سے احتراز ضروری ہے۔ فتاوی شارح بخاری جلد سوم میں ہے : پہلی بات یہ خاص ہندؤو ں کا مذہبی شعار ہے اور کسی کافر کے مذہبی شعار کو قبول کرنا کفر ہے حدیث شریف میں ہے: من تشبہ بقوم فھو منھم، جو کسی کے مذہبی شعار کو اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ نمستے کے معنی ہیں: میں تمہاری تعظیم کے لئے جھکتا ہوں، یہ کس قدر بے غیرتی کی بات ہے کہ مسلمان جسے اللہ نے اسلام سے عزت دی اور اسلام کی بدولت سارے جہاں سے معزز ہے وہ اللہ عزوجل اور رسول اللہ کے دشمن بلکہ اپنے جان ومال کے دشمن کی تعظیم کے لیے جھکے۔چونکہ عوام نہ نمستے کے معنی جانتے ہیں اور نہ ہی ہاتھ جوڑنے کا معنی معلوم ہے، وہ صرف ایک رسم سمجھ کر ہندؤ وں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں اس لئے ان پر حکم کفر نہیں مگر گنہگار ضرور ہوں گے اور سخت گنہگار،اس لئے مسلمانوں پر واجب ہے کہ ہندؤوں کے سامنے ہاتھ جوڑنے و نمستے کہنے سے پرہیز کریں، ہندو گری کے اس زمانے میں ہندؤوں کے راہ و رسم کو اختیار کر نا بہت بڑی کمزوری ہے، اللہ عزوجل مسلمانوں کو اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور کفار و مشرکین کے طور و طریقے سے 

بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔(صفحہ 135)۔

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html


وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

 حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

2/ جمادی الاول 1447ھ

24/ اکتوبر 2025ء 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad