تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

خنثیٰ جانور کو بیچنا اور ذبح کرنا کیسا ہے؟ اور اس کے گوشت کو کھانا کیسا ہے؟

0


خنثیٰ جانور کو بیچنا اور ذبح کرنا کیسا ہے؟  اور اس کے گوشت کو کھانا کیسا ہے؟

رقم الفتوی : 724


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماۓکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بکرے یعنی بکرا میں سے وہ بکرا بکرا بھی نہیں ہو اور بکری بھی نہ ہو یعنی بیچ کا (مخنث) ہو تو اس طرح کے بکرے کو بیچنا یا اس کو بیچ کر اسے ذبح کر کے اس کے گوشت کو بیچنا کیسا ہے  مفتیان عظام اس کا جواب  عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں 

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

فقط والسلام محمد رضوان احمد رضوی جلگاؤں  مہاراشٹر

.............................


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : خنثیٰ جانور کو بیچنا اور ذبح کرنا دونوں جائز ہے اور اس کا گوشت کھانا بھی جائز ہے اگر چہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے تو نہیں پکتا۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے : ولا بالخنثى لأن لحمها لاينضج شرح وهبانية، وتمامه فيه.(قوله لأن لحمها لا ينضج) من باب سمع. وبهذا التعليل اندفع ما أورده ابن وهبان من أنها لا تخلو إما أن تكون ذكرا أو أنثى، وعلى كل تجوز. (ج/6 كتاب الأضحية، صفحہ 325)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : خنثی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا، ویسے ذبح سے حلال ہوجائے گا، اگر کوئی کچا گوشت کھائے، کھائے،درمختار میں ہے : ولابالخنثی لان لحمہا لاینضج، شرح وہبانیۃ۔ ترجمہ : خنثی بکرے کی قربانی جائز نہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں، شرح وہبانیہ۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے : لا تجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ۔، ترجمہ: خنثی بکرے کی قربانی جائز نہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں، قنیہ میں اسی طرح ہے۔( جلد 20 /صفحہ 255 )۔


https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html


وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

 حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

26/ ربیع الاخر 1447ھ

19/ اکتوبر 2025ء 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad