تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Maiyay ko kisi ke intizar me ruke rkhna sharaan kaisa hai?-----میت کو کسی کے انتظار میں روک رکھنا شرعاً کیسا ہے؟

0

Maiyay ko kisi ke intizar me ruke rkhna sharaan kaisa hai?-----

 


السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ میت کو کسی کے انتظار میں رکھنا جائز ہے یا نہیں 

مثلاً اس کا کوئی بیٹا دور ہے اسکو آنے میں 30 گھنٹہ لگ جائے گا تو کیا اس کے لیے میت کو رکھا جا سکتا ہے 

سائل : محمد قاسم علی اتر دیناج پور بنگال

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ


وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجـــواب بعــون المـلـک الـــوھـــاب


صورت مسئولہ میں ایک دن، دو دن، تین دن، تک اپنے احباب اور اعزاء کا انتظار کرنا مکروہ ہے اور تدفین جلدی کرنا چاہئے


جیسا کہ حدیث شریف مشکوٰۃ میں ہے : "قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول اذا مات احد كم فلاتحبسوه واسرعوا به الي قبره"۔

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ  جب تم میں سے کوئی شخص مر جائے تو تم تاخیر نہ کرو اور جلدی کرو دفن کرنے میں۔( باب دفن المیت صفحہ 149)رد المحتار میں ہے : "كره تأخير صلاته ودفنه ليصلي عليه جمع عظيم بعد الصلاة الجمعة"۔

ترجمہ: اس مقصد سے کہ جمعہ کے بعد جماعت عظیم شریک جنازہ ہو نماز جنازہ اور دفن میں تاخیر مکروہ ہے(ج 3 مطلب فی دفن المیت صفحہ 147)

الجوھرۃالنیرۃ میں ہے : "لقوله عليه السلام عجلوا بموتاكم و في نقله"۔

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے مردہ کو دفن کرنے میں جلدی کرو۔( باب الجنائز صفحہ 129)


فتاوی رضویہ میں ہے : لہذا علماء فرماتے ہیں اگر روز جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہوگیا جماعت کثیر کے انتظار میں دیر نہ کریں اس مسئلہ میں بہت لحاظ رکھنا چاہئے کہ آجکل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے جنہیں کچھ سمجھ ہے وہ تو اسی جماعت کثیر کے انتظار میں روکے رکھے ہیں اور نرے جہال نے اپنےجی سے اور باتیں تراشی ہیں کوئی کہتا ہے میت بھی نماز جمعہ میں شریک ہوجائیگی کوئی کہتا ہے جمعہ کے بعد میت کو دفن کریگے تو ہمیشہ جمعہ ملتا رہے گا یہ سب بے اصل و خلاف مقصد شرع ہیں

(فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 310)


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کتــبــہ" حضرت علامہ مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی، خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور، بنگال

*مورخہ؛ 23/ ربیع النور 1441ھ* 

*بمطابق 21/ نومبر 2019 ء*

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad